Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 17. Al-Israa · Ayah 52

Tafseer
  1. یَوْمَ یَدْعُوْكُمْ فَتَسْتَجِیْبُوْنَ بِحَمْدِهٖ وَ تَظُنُّوْنَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِیْلًا۠ع﴿52﴾

    1. يَوْمَجس دن
    2. يَدْعُوْكُمْوہ پکارے گا تمہیں
    3. فَتَسْتَجِيْبُوْنَتو تم جواب دو گے (تعمیل کروگے)
    4. بِحَمْدِهٖاسکی تعریف کے ساتھ
    5. وَتَظُنُّوْنَاور تم خیال کروگے
    6. اِنْکہ
    7. لَّبِثْتُمْتم رہے
    8. اِلَّاصرف
    9. قَلِيْلًاتھوڑی دیر
Translation · Tadabbur-e-Quran
جس دن وہ تم کو پکارے گا تو تم اس کی حمد کرتے ہوئے اس کے حکم کی تعمیل کروگے اور تم یہ گمان کروگے کہ تم بس تھوڑی ہی مدت رہے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
يَوْمَ يَدْعُوْكُمْ فَتَسْتَجِيْبُوْنَ بِحَمْدِهٖ وَتَظُنُّوْنَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِيْلًا۔ اب یہ ان کو براہ راست خطاب کر کے فرمایا کہ آج تو بہت اکڑتے ہو لیکن اس دن کو یاد رکھو جس دن پکار ہوگی اور تم اس پکار پر خدا کی حمت کرتے ہوئے دوڑو گے۔ اس دن سارے حجابات چاک ہوجائیں گے اور ایک ایک حقیقت آنکھوں سے نظر آجائے گی۔ نیز یہ مدت جو تمہارے اور قیامت کے درمیان حائل ہے اور تمہیں بہت طویل نظر آرہی ہے، اس دن ایسا محسوس کروگے کہ ابھی سوئے تھے ابھی جاگ پڑے ہیں مطلب یہ ہے کہ جو مرا بس سمجھو کہ اس کی قیامت سر پر کھڑی ہے اس لیے کہ برزخ میں جو زندگی گزرے گی اس کا کوئی احساس باقی نہیں رہے گا۔