تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 17. Al-Israa · Ayah 62
قَالَ اَرَءَیْتَكَ هٰذَا الَّذِیْ كَرَّمْتَ عَلَیَّ١٘ لَئِنْ اَخَّرْتَنِ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ لَاَحْتَنِكَنَّ ذُرِّیَّتَهٗۤ اِلَّا قَلِیْلًا﴿62﴾
- قَالَاس نے کہا
- اَرَءَيْتَكَبھلا تو دیکھ
- هٰذَایہ
- الَّذِيْوہ جسے
- كَرَّمْتَتونے عزت دی
- عَلَيَّمجھ پر
- لَئِنْالبتہ اگر
- اَخَّرْتَنِتو مجھے ڈھیل دے
- اِلٰىتک
- يَوْمِ الْقِيٰمَةِروز قیامت
- لَاَحْتَنِكَنَّجڑ سے اکھاڑ دوں گا ضرور
- ذُرِّيَّتَهٗٓاس کی اولاد
- اِلَّاسوائے
- قَلِيْلًاچند ایک
Translation · Tadabbur-e-Quran
اس نے کہا ذرا دیکھ تو اس کو جس کو تو نے مجھ پر عزت بخشی ہے اگر تو نے مجھے روز قیامت تک مہلت دے دی تو میں، ایک قدرے قلیل کے سوا، اس کی ساری ذریت کو چٹ کرجاؤں گا
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
قَالَ اَرَءَيْتَكَ هٰذَا الَّذِيْ كَرَّمْتَ عَلَيَّ ۡ لَىِٕنْ اَخَّرْتَنِ اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ لَاَحْتَنِكَنَّ ذُرِّيَّتَهٗٓ اِلَّا قَلِيْلًا۔
" ارء یتک " کا اسلوب خطاب طنز و تحقیر کے لیے بھی آتا ہے اور احتنک الجراد الارض، کے معنی ہوں گے کہ ٹڈی دل نے زمین کی ساری روئیدگی چٹ کرلی۔
قصہ آدم و ابلیس کا سبق : یعنی آدم و ابلیس کی یہ دشمنی ختم نہیں ہوگئی بلکہ یہ قیامت تک باقی رہنے والی ہے۔ اس نے جوش حسد میں خدا سے یہ مہلت مانگی تھی کہ اگر تو نے مجھے قیامت تک مہلت دے دی تو میں آدم کی ساری ذریت کو چٹ کرجاؤں گا اور یہ ثابت کردوں گا کہ آدم اور اس کی ذریت میرے اور میری ذریت کے مقابل میں کسی شرف کے حقدار نہیں ہیں۔
اس کا حوالہ دینے سے مقصود یہ ظاہر کرنا ہے کہ یہ جو ایمان نہیں لا رہے ہیں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ ابلیس اور اس کی ذریات کے نرغے میں آئے ہوئے لوگ ہیں اور اس نے روز اول جو دعوی کیا تھا ان لوگوں کے معاملے میں اس نے وہ سچ کردکھایا ہے۔