تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 17. Al-Israa · Ayah 84
قُلْ كُلٌّ یَّعْمَلُ عَلٰى شَاكِلَتِهٖ١ؕ فَرَبُّكُمْ اَعْلَمُ بِمَنْ هُوَ اَهْدٰى سَبِیْلًا۠ع﴿84﴾
- قُلْکہ دیں
- كُلٌّہر ایک
- يَّعْمَلُکام کرتا ہے پر
- عَلٰيپر
- شَاكِلَتِهٖاپنا طریقہ
- فَرَبُّكُمْسو تمہارا پروردگار
- اَعْلَمُخوب جانتا ہے
- بِمَنْ هُوَکہ وہ کون
- اَهْدٰىزیادہ صحیح
- سَبِيْلًاراستہ
Translation · Tadabbur-e-Quran
کہہ دو کہ ہر ایک اپنی روش پر کام کرے گا تو تمہارا رب ان لوگوں کو خوب جانتا ہے جو صحیح تر راستہ پر ہیں
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
قُلْ كُلٌّ يَّعْمَلُ عَلٰي شَاكِلَتِهٖ ۭ فَرَبُّكُمْ اَعْلَمُ بِمَنْ هُوَ اَهْدٰى سَبِيْلًا۔ لفظ " کل " اگرچہ نکرہ ہے لیکن بعض مواقع میں، جیسا کہ اس کے محل میں ہم واضح کرچکے ہیں، یہ معرفہ کے حکم میں ہوجاتا ہے یعنی اس سے وہی جماعتیں یا اشخاص مراد ہوتے ہیں جن کا ذکر اوپر سے چلا آرہا ہوتا ہے۔
معاملہ اللہ کے حوالے کرنے ہدایت : شاکلۃ کے معنی طریقہ کے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ ان سے کہہ دو کہ اگر تم میری بات سننے پر آمادہ نہیں ہو تو تم اپنی روش پر گامزن رہو گے اور میں بہرحال اپنی دعوت پر قائم رہوں گا۔ تمہارا رب خوب جانتا ہے کہ سیدھے راستے پر کون ہے، اپنے زعم کے مطابق تم یا میں اور میرے ساتھی۔ آگے آنے والے حالات بتا دیں گے کہ منزل پر کون پہنچتا ہے۔ یہ آیت گویا تفویض کی آیت ہے۔ پیغمبر ﷺ کو یہ ہدایت ہوئی کہ تم ان کا معاملہ اللہ کے حوالہ کرو اور خود اپنے موقفِ حق پر ڈٹے رہو۔