تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 17. Al-Israa · Ayah 96
قُلْ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِیْدًۢا بَیْنِیْ وَ بَیْنَكُمْ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ بِعِبَادِهٖ خَبِیْرًۢا بَصِیْرًا﴿96﴾
- قُلْکہہ دیں
- كَفٰىکافی ہے
- بِاللّٰهِاللہ کی
- شَهِيْدًۢاگواہ
- بَيْنِيْمیرے درمیان
- وَبَيْنَكُمْاور تمہارے درمیان
- اِنَّهٗبیشک وہ
- كَانَہے
- بِعِبَادِهٖاپنے بندوں کا
- خَبِيْرًۢاخبر رکھنے والا
- بَصِيْرًادیکھنے والا
Translation · Tadabbur-e-Quran
کہہ دو کہ اللہ میرے اور تمہارے درمیان گواہی کے لیے کافی ہے، بیشک وہی اپنے بندوں کو خوب جاننے والا ہے، خوب دیکھنے والا ہے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
معاملہ اللہ کے حوالے کرنے کی ہدایت : قُلْ كَفَى بِاللَّهِ شَهِيدًا بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ إِنَّهُ كَانَ بِعِبَادِهِ خَبِيرًا بَصِيرًا۔ اب یہ اچھی طرح حجت تمام کردینے کے بعد نبی ﷺ کو ہدایت ہوئی کہ ان کا معاملہ اللہ کے حوالہ کرو اور ان سے کہہ دو کہ اللہ میرے اور تمہارے درمیان گواہی دینے کے لیے کافی ہے کہ دلائل کی عدم وضاحت تمہارے لیے ایمان سے مانع ہے یا تمہاری ضد اور انانیت۔ اللہ اپنے بندوں کے ظاہر و باطن سے خوب واقف ہے۔ اب وہی فیصلہ فرمائے گا کہ تم پر یری رسالت کی صداقت واضح نہیں ہوئی تھی یا تم سب کچھ دیکھ، سن اور سمجھ کر اندھے بہر اور گونگے بنے رہے۔