Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 17. Al-Israa · Ayah 97

  1. وَ مَنْ یَّهْدِ اللّٰهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِ١ۚ وَ مَنْ یُّضْلِلْ فَلَنْ تَجِدَ لَهُمْ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِهٖ١ؕ وَ نَحْشُرُهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ عَلٰى وُجُوْهِهِمْ عُمْیًا وَّ بُكْمًا وَّ صُمًّا١ؕ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ١ؕ كُلَّمَا خَبَتْ زِدْنٰهُمْ سَعِیْرًا﴿97﴾

    1. وَمَنْاور جسے
    2. يَّهْدِہدایت دے
    3. اللّٰهُاللہ
    4. فَهُوَپس وہی
    5. الْمُهْتَدِہدایت پانے والا
    6. وَمَنْاور جسے
    7. يُّضْلِلْگمراہ کرے
    8. فَلَنْ تَجِدَپس تو ہرگز نہ پائے گا
    9. لَهُمْان کے لیے
    10. اَوْلِيَآءَمددگار
    11. مِنْ دُوْنِهٖاس کے سوا
    12. وَنَحْشُرُهُمْاور ہم اٹھائیں گے نہیں
    13. يَوْمَ الْقِيٰمَةِقیامت کے دن
    14. عَلٰيپر
    15. وُجُوْهِهِمْان کے چہرے
    16. عُمْيًااندھے
    17. وَّبُكْمًااور گونگے
    18. وَّصُمًّااور بہرے
    19. مَاْوٰىهُمْان کا ٹھکانا
    20. جَهَنَّمُجہنم
    21. كُلَّمَاجب کبھی
    22. خَبَتْبجھنے لگے گی
    23. زِدْنٰهُمْہم ان کے لیے زیادہ کردیں گے
    24. سَعِيْرًابھڑکانا
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور جس کو اللہ ہدایت دے گا وہی ہدایت پانے والا بنے گا اور جسے وہ گمراہ کردے گا تو تم ان کے لیے اس کے سوا کسی کو مددگار نہ پاؤگے اور ہم قیامت کے دن کو ان کے مونہوں کے بل، اندھے، گونگے اور بہرے اکٹھا کریں گے۔ ان کا ٹھکانا جہنم ہے جب جب اس کی آگ دھیمی ہونے لگے گی ہم اس کو مزید بھڑکا دیا کریں گے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
ہدایت و ضلالت کے باب میں سنت الہی : وَمَنْ يَهْدِ اللَّهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِ وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَنْ تَجِدَ لَهُمْ أَوْلِيَاءَ مِنْ دُونِهِ وَنَحْشُرُهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى وُجُوهِهِمْ عُمْيًا وَبُكْمًا وَصُمًّا مَأْوَاهُمْ جَهَنَّمُ كُلَّمَا خَبَتْ زِدْنَاهُمْ سَعِيرًا۔ یہ ہدایت و ضلالت کے باب میں اللہ تعالیٰ نے اپنی سنت واضح فرما دی کہ اللہ ہی جس کو ہدایت دیتا ہے وہ ہدایت پاتا اور وہ جس کو گمراہ کردے اس کے لیے کوئی بھی ہدایت دینے والا نہیں بن سکتا۔ یہ سنت الٰہی جس اساس پر بمبنی ہے اس کی طرف وَنَحْشُرُهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى وُجُوهِهِمْ عُمْيًا وَبُكْمًا وَصُمًّا کے الفاظ اشارہ کر رہے ہیں کہ جو لوگ اپنی آنکھیں اللہ کی نشانیاں دیکھنے کے لیے، اپنی زبانیں حق کی گواہی کے لیے اور اپنے کان اللہ، اور رسول کی باتیں سننے کے لیے استعمال کرتے ہیں ان کو تو خدا کی ہدایت نصیب نہیں ہوتی۔ ان لوگو کا چونکہ یہی حال ہے اس وجہ سے ان کو ہدایت نصیب نہیں ہوگی اور قیامت کے دن ان کو ان نعمتوں کی ناقدری کی سزا ہم یہ دیں گے کہ ان کو ہم ان کے مونہوں کے بل اس حال میں گھسیٹتے ہوئے اکٹھا کریں گے کہ یہ اندھے، گونگے اور بہرے ہوں گے۔ نھشرہم کے بعد " علی " اس بات پر دلیل ہے کہ یہ مونہوں کے بل گھسیٹتے ہوئے اکٹھے کیے جائیں گے ل۔ دوسری جگہ " یوم یسحبون فی النار علی وجوہہم " کے الفاظ وارد ہوئے جن سے اس مضمون کی وضاحت ہوجاتی ہے۔ وہ چہرے جن کو اللہ نے سمع و بصر اور نطق کی صلاحیتوں سے مزین فرمایا لیکن اس کے باوجود وہ اندھے، بہرے اور گونگے ہی بنے رہے بلاشبہ وہ اسی قابل ہیں کہ ایسی بھڑکتی آگ پر گھسیٹے جائیں جس کی لو کبھی دھیمی نہ ہونے پائے۔