Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 18. Al-Kahf · Ayah 109

  1. قُلْ لَّوْ كَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِّكَلِمٰتِ رَبِّیْ لَنَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ اَنْ تَنْفَدَ كَلِمٰتُ رَبِّیْ وَ لَوْ جِئْنَا بِمِثْلِهٖ مَدَدًا﴿109﴾

    1. قُلْفرمادیں
    2. لَّوْاگر
    3. كَانَہو
    4. الْبَحْرُسمندر
    5. مِدَادًاروشنائی
    6. لِّكَلِمٰتِباتوں کے لیے
    7. رَبِّيْمیرا رب
    8. لَنَفِدَ الْبَحْرُتو ختم ہوجائے سمندر
    9. قَبْلَپہلے
    10. اَنْ تَنْفَدَکہ ختم ہوں
    11. كَلِمٰتُ رَبِّيْمیرے رب کی باتیں
    12. وَلَوْاور اگرچہ
    13. جِئْنَاہم لے آئیں
    14. بِمِثْلِهٖاس جیسا
    15. مَدَدًامدد کو
Translation · Tadabbur-e-Quran
کہہ دو اگر میرے رب کی نشانیوں کو قلم بند کرنے کے لیے سندر روشنائی بن جائے تو میرے رب کی نشانیوں کے ختم ہونے سے پہلے سمندر ختم ہوجائے گا اگرچہ ہم اس کے ساتھ اسی کے مانند اور سمندر ملا دیں
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
قُلْ لَوْ كَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِكَلِمَاتِ رَبِّي لَنَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ أَنْ تَنْفَدَ كَلِمَاتُ رَبِّي وَلَوْ جِئْنَا بِمِثْلِهِ مَدَدًا معجزہ کا مطالبہ کرنے والوں کو جواب : " کلمات " سے مراد اللہ تعالیٰ کی قدرت و حکمت کی وہ نشانیاں ہیں جو آفاق وانفس میں پھیلی ہوئی ہیں۔ یہ ان متکبرین کو جواب ہے جو قرآن کی آیات کا مذاق اڑاتے تھے اور پیغمبر سے کسی ظاہری اور حسی معجزے کا مطالبہ کرتے تھے۔ فرمایا کہ ان سے کہہ دو کہ اگر نشانیوں کے طلب گار ہو تو یہ کائنات، اتنی نشانیوں سے بھری ہوئی ہے کہ سمندر اگر روشنائی بن جائے تو اس کی روشنائی بھی ان کو قلم بند کرنے کے لیے ناکافی ہو اگرچہ اس طرح کا ایک اور سمندر بھی اس کے ساتھ ملا لیا جائے۔ سورة لقمان میں یہ مضمون اس سے بھی زیادہ زور دار الفاظ میں بیان ہوا ہے۔ اور یہ سرتاسر بیان حقیقت ہے۔ اس میں ذرہ برابر بھی مبالغہ نہیں ہے۔ سمندر تو اگر اپنی ہی نشانیوں اور عجائب کو قلم بند کرنا چاہے تو اس کی ساری روشنائی ان کے لیے بھی کافی نہ ہو۔ لیکن یہ نشانیاں صرف ان کو نظر آتی ہیں جن کے پاس آنکھیں ہوں۔