تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 18. Al-Kahf · Ayah 20
اِنَّهُمْ اِنْ یَّظْهَرُوْا عَلَیْكُمْ یَرْجُمُوْكُمْ اَوْ یُعِیْدُوْكُمْ فِیْ مِلَّتِهِمْ وَ لَنْ تُفْلِحُوْۤا اِذًا اَبَدًا﴿20﴾
- اِنَّهُمْبیشک وہ
- اِنْ يَّظْهَرُوْااگر وہ خبر پالیں گے
- عَلَيْكُمْتمہاری
- يَرْجُمُوْكُمْتمہیں سنگسار کردیں گے
- اَوْیا
- يُعِيْدُوْكُمْتمہیں لوٹا لیں گے
- فِيْمیں
- مِلَّتِهِمْاپنی ملت
- وَلَنْ تُفْلِحُوْٓااور تم ہرگز فلاح نہ پاؤ گے
- اِذًااس صورت میں
- اَبَدًاکبھی
Translation · Tadabbur-e-Quran
اگر وہ تمہاری خبر پا جائیں گے تو تمہیں سنگسار کردیں گے یا تمہیں اپنی ملت میں لوٹا لیں گے اور پھر تم کبھی فلاح نہ پاسکوگے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
إِنَّهُمْ إِنْ يَظْهَرُوا عَلَيْكُمْ يَرْجُمُوكُمْ أَوْ يُعِيدُوكُمْ فِي مِلَّتِهِمْ وَلَنْ تُفْلِحُوا إِذًا أَبَدًا۔
اس سے اس اندیشہ کا اظہار ہوتا ہے جس کی بنا پر احتیاط اور راز داری کی تاکید کی گئی۔ جس زمانے میں ان لوگوں نے غار میں پناہ لی ہے اہل حق پر ظلم و تشدد اپنی انتہا کو پہنچ چکا تھا اور ان لوگوں نے سنگسار کردیے جانے کے اندیشے سے یہ پناہ ڈھونڈی تھی۔ اسی اندیشہ کو پیش نظر رکھتے ہوئے یہ فرایا کہ اگر کہیں لوگوں کو پتہ چل گیا تو پھر ہماری خیر نہیں ہے۔ پہلے تو کسی نہ کسی بچ نکلے لیکن اب اگر پا گئے تو یا تو سنگسار کردیں گے یا مرتد کرکے چھوڑیں گے۔ پھر کسی طرح بھی ان سے نجات حاصل کرنا ممکن نہ ہوگا