Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 18. Al-Kahf · Ayah 54

  1. وَ لَقَدْ صَرَّفْنَا فِیْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ لِلنَّاسِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍ١ؕ وَ كَانَ الْاِنْسَانُ اَكْثَرَ شَیْءٍ جَدَلًا﴿54﴾

    1. وَلَقَدْ صَرَّفْنَااور البتہ ہم نے پھیر پھیر کر بیان کیا
    2. فِيْمیں
    3. هٰذَا الْقُرْاٰنِاس قرآن
    4. لِلنَّاسِلوگوں کے لیے
    5. مِنْسے
    6. كُلِّ مَثَلٍہر (طرح) کی مثالیں
    7. وَكَانَاور ہے
    8. الْاِنْسَانُانسان
    9. اَكْثَرَ شَيْءٍہر شے سے زیادہ
    10. جَدَلًاجگھڑنے والا
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور ہم نے اس قرآن میں لوگوں کی رہنمائی کے لیے ہر قسم کی تنبیہات گوناگوں پہلوؤں سے بیان کردی ہیں لیکن انسان سب سے زیادہ جھگڑالو واقع ہوا ہے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
وَلَقَدْ صَرَّفْنَا فِي هَذَا الْقُرْآنِ لِلنَّاسِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍ وَكَانَ الإنْسَانُ أَكْثَرَ شَيْءٍ جَدَلا۔ " مثل " سے مراد : " مثل " سے مراد یہاں عالم غیب اور آخرت کے وہ حقائق ہیں جو تمثیل کے رنگ ہیں اوپر لوگوں کو متنبہ کرنے کے لیے سنائے گئے ہیں اور " انسان " سے وہی جھگڑالو مخاطب ہیں جن سے یہاں بحث چل رہی ہے لیکن ان سے بیزاری کے اظہار کے لیے بات عام صیغہ سے کہہ دی گئی ہے۔ فرمایا کہ ہم نے تو لوگوں کو متنبہ کرنے کے لیے ہر قسم کی تنبیہات اس قرآن میں گوناگوں پہلوؤں سے بیان کردی ہیں لیکن انسان بڑا ہی جھگڑالو واقع ہوا ہے۔ وہ ان سے فائدہ اٹھانے کے بجائے کوئی نہ کوئی پہلو اعتراض کا پہلو ڈھونڈھ ہی لیتا ہے۔