تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 18. Al-Kahf · Ayah 77
فَانْطَلَقَا١ٙ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَتَیَاۤ اَهْلَ قَرْیَةِ اِ۟سْتَطْعَمَاۤ اَهْلَهَا فَاَبَوْا اَنْ یُّضَیِّفُوْهُمَا فَوَجَدَا فِیْهَا جِدَارًا یُّرِیْدُ اَنْ یَّنْقَضَّ فَاَقَامَهٗ١ؕ قَالَ لَوْ شِئْتَ لَتَّخَذْتَ عَلَیْهِ اَجْرًا﴿77﴾
- فَانْطَلَقَاپھر وہ دونوں چلے
- حَتّٰٓيیہاں تک کہ
- اِذَآ اَتَيَآجب وہ دونوں آئے
- اَهْلَ قَرْيَةِایک گاؤں والوں کے پاس
- اسْتَطْعَمَآدونوں نے کھانا مانگا
- اَهْلَهَااس کے باشندے
- فَاَبَوْا اَنْتو انہوں نے انکار کردیا کہ
- يُّضَيِّفُوْهُمَاوہ ان کی ضیافت کریں
- فَوَجَدَاپھر انہوں نے پائی (دیکھی)
- فِيْهَا جِدَارًااس میں (وہاں) ایک دیوار
- يُّرِيْدُوہ چاہتی تھی
- اَنْ يَّنْقَضَّکہ وہ گرپڑے
- فَاَقَامَهٗتو اس نے اسے سیدھا کردیا
- قَالَاس نے کہا
- لَوْ شِئْتَاگر تم چاہتے
- لَتَّخَذْتَلے لیتے
- عَلَيْهِاس پر
- اَجْرًااجرت
Translation · Tadabbur-e-Quran
پھر چلے یہاں تک کہ جب پہنچے ایک بستی الوں کے پاس تو ان سے کھانا کھلانے کی درخواست کی لیکن انہوں نے ان کی میزبانی سے انکار کردیا تو انہوں نے وہاں ایک دیوار دیکھو جو گرا چاہتی تھی، وہ دیوار اس نے کھڑی کردی۔ موسیٰ نے کہا اگر آپ چاہتے تو اس پر کچھ مزدوری بھی ٹھہرا لیتے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
تفسیر ٓیات 77 تا 78: فَانْطَلَقَا حَتَّى إِذَا أَتَيَا أَهْلَ قَرْيَةٍ اسْتَطْعَمَا أَهْلَهَا فَأَبَوْا أَنْ يُضَيِّفُوهُمَا فَوَجَدَا فِيهَا جِدَارًا يُرِيدُ أَنْ يَنْقَضَّ فَأَقَامَهُ قَالَ لَوْ شِئْتَ لاتَّخَذْتَ عَلَيْهِ أَجْرًا (77)۔ قَالَ هَذَا فِرَاقُ بَيْنِي وَبَيْنِكَ سَأُنَبِّئُكَ بِتَأْوِيلِ مَا لَمْ تَسْتَطِعْ عَلَيْهِ صَبْرًا (78)
بستی والوں کا واقعہ : پھر آگے کو چلے یہاں تک کہ ایک بستی میں پہنچے۔ بھوکے تھے اس وجہ سے بستی والوں سے کچھ کھلانے کی فرمائش کی۔ شریف لوگ بن کہے بھی مسافروں کی میزبانی ایک سعادت سمجھتے ہیں لیکن اس بستی کے لوگ ایسے لئیم نکلے کہ انہوں نے حضرت موسیٰ اور حضرت خضر جیسے دو شریف مسافروں کو، ان کی درخواست پر بھی، روٹی دینے سے انکار کردیا۔ ان کی اس کمینگی کے باوجود حضرت خضر نے ان کے ساتھ یہ سلوک کیا کہ ان کی بستی کی ایک دیوار، جو گرا چاہتی تھی، محنت کرکے درست کردی۔ آخر حضرت موسیٰ سے اس پر نہ رہا گیا۔ انہوں نے ٹوکا کہ ان ناہلوں اور کمینوں کے لیے آپ نے یہ محنت بےمرد کیوں برداشت کی ؟ اور کچھ نہیں تو ان سے اس محنت کی کچھ مزدوری ہی ٹھہرا لیتے ! حضرت خضر نے فرمایا کہ بس جناب اب محبت عام ہوچکی۔ اب میرے اور آپ کے درمیان جدائی کا فیصلہ ہے۔ آئیے میں ان باتوں کی حقیقت آپ کو بتاتا ہوں جن پر آپ صبر نہ کرسکے۔ قرینہ دلیل ہے کہ حضرت خضر نے جدائی کا یہ اعلان صرف اس بنا پر نہیں کیا کہ حضرت موسیٰ پر خود ان کے اقرار کے مطابق، حجت تما ہوچکی تھی بلکہ حکمت کی وہ تعلیم بھی مکمل ہوچکی تھی جو حضرت موسیٰ کو وہ دینا چاہتے تھے۔