تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 19. Maryam · Ayah 73
وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا١ۙ اَیُّ الْفَرِیْقَیْنِ خَیْرٌ مَّقَامًا وَّ اَحْسَنُ نَدِیًّا﴿73﴾
- وَاِذَااور جب
- تُتْلٰىپڑھی جاتی ہیں
- عَلَيْهِمْان پر
- اٰيٰتُنَاہماری آیتیں
- بَيِّنٰتٍواضح
- قَالَکہتے ہیں
- الَّذِيْنَوہ جنہوں نے
- كَفَرُوْاکفر کیا
- لِلَّذِيْنَان سے جو
- اٰمَنُوْٓاوہ ایمان لائے
- اَيُّکون سا
- الْفَرِيْقَيْنِدونوں فریق
- خَيْرٌ مَّقَامًابہتر مقام
- وَّاَحْسَنُاور اچھی
- نَدِيًّامجلس
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور جب ان کو ہماری واضح ٓیات پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو جن لوگوں نے کی راہ اختیار کر رکھی ہے وہ ایمان لانے والوں سے سوال کرتے ہیں کہ فریقین میں سے اپنے مرتبہ اور سوسائٹی کے اعتبار سے کون بڑھ کر ہے ؟
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
وَإِذَا تُتْلَى عَلَيْهِمْ آيَاتُنَا بَيِّنَاتٍ قَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا لِلَّذِينَ آمَنُوا أَيُّ الْفَرِيقَيْنِ خَيْرٌ مَقَامًا وَأَحْسَنُ نَدِيًّا۔ یہ ان مغروروں کی ذہنیت واضح کی جا رہی ہے کہ جب ان کو جزا و سزا اور عذاب دنیا و آخرت سے آگاہ کرنے والی نہایت واضح، مبنی بر دلائل آیتیں، پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو بڑی دیدہ دلیری سے وہ اہل ایمان سے یہ معارضہ کرتے ہیں کہ بتاؤ، مرتبہ و مقام، جاہ و منصب، اعوان و انصار، مجلس اور سوسائٹی کے اعتبار سے تمہارا درجہ اونچا ہے یا ہمارا ؟ اگر ہمارا درجہ اونچا ہے اور بالبداہت اونچا ہے، تو ہم کیونکہ باور کرلیں کہ ہم خدا کے غضب کے سزاوار ہیں اور ہم پر کوئی عذاب آنے والا ہے ! ہم تو دیکھتے ہیں کہ خدا کی نظروں میں ہم تم سے زیادہ عزت رکھنے والے ہیں کہ اس نے ہم کو یہ کچھ دے رکھا ہے اور تم ان ساری چیزوں سے محروم ہو