Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 2. Al-Baqara · Ayah 205

Tafseer
  1. وَ اِذَا تَوَلّٰى سَعٰى فِی الْاَرْضِ لِیُفْسِدَ فِیْهَا وَ یُهْلِكَ الْحَرْثَ وَ النَّسْلَ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ الْفَسَادَ﴿205﴾

    1. وَاِذَااور جب
    2. تَوَلّٰىوہ لوٹے
    3. سَعٰىدوڑتا پھرے
    4. فِيمیں
    5. الْاَرْضِزمین
    6. لِيُفْسِدَتاکہ فساد کرے
    7. فِيْهَااس میں
    8. وَيُهْلِكَاور تباہ کرے
    9. الْحَرْثَکھیتی
    10. وَاور
    11. النَّسْلَنسل
    12. وَاللّٰهُاور اللہ
    13. لَا يُحِبُّناپسند کرتا ہے
    14. الْفَسَادَفساد
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور جب وہ تمہارے پاس سے ہٹتے ہیں تو ان کی ساری بھاگ دوڑ اس لیے ہوتی ہے کہ زمین میں فساد مچائیں اور کھیتی اور نسل کو تباہ کریں اور اللہ فساد کو پسند نہیں کرتا۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
یعنی تمہارے سامنے تو ان کی باتیں بڑی دل لبھانے والی ہوتی ہیں لیکن تمہارے پاس سے ہٹنے کے بعد ان کی ساری بھاگ دوڑ فساد فی الارض کی راہ میں ہوتی ہے۔ فساد فی الارض سے مراد، جیسا کہ ہم آیت 11 کے تحت واضح کرچکے ہیں، اللہ کی بندگی اور اطاعت کی اس دعوت کی مزاحمت و مخالفت ہے جو نبی ﷺ دے رہے تھے۔ زمین کے تمام امن و عدل کا انحصار اس بات پر ہے کہ اللہ کے بندے اللہ ہی کی بندگی اور اس کی اطاعت میں داخل ہوجائیں، جیسا کہ آگے ارشاد ہو رہا ہے“ ادْخُلُوْا فِي السِّلْمِ كَاۗفَّةً ۠وَلَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّيْطٰنِ : اللہ کی اطاعت میں سب کے سب داخل ہوجاؤ اور شیطان کے نقش قدم کی پیروی نہ کرو ”۔ اس بندگی و اطاعت میں داخل ہوجانے کے بعد شیطان کے لیے در اندازیوں اور فساد کی تمام راہیں بند ہوجاتی ہیں۔ بصورت دیگر تمام نسل انسانی شیطان کی فساد انگیزیوں کی آماجگاہ بنی رہتی ہے اور وہ برابر بغض و عداوت کی آگ بھڑکاتا رہتا ہے جو حرث و نسل دونوں کی تباہی کا موجب ہوتی ہے۔ اہل عرب نے اسلام سے پہلے دور جاہلیت میں اس صورت حال کا اچھی طرح تجربہ کرلیا تھا اس وجہ سے ان کے لیے یہ اندازہ کرنا کچھ مشکل نہ تھا کہ تباہی کے اس جہنم سے خلق خدا کو نکالنے کے لیے سلم و اطاعت کی وہ دعوت کتنی بڑی رحمت و برکت تھی جو قرآن نے پیش کی تھی اور پھر انسانیت کے کتنے بڑے دشمن تھے وہ لوگ جو اس دعوت کی مخالفت کر رہے تھے اور چاہتے تھے کہ دنیا اسی جہنم میں پڑی جلتی رہے۔ وَاللّٰهُ لَا يُحِبُّ الْفَسَادَ ، یعنی بظاہر وہ کتنی ہی چکنی چپڑی باتیں کیوں نہ کریں اور اسلام اور پیغمبر کی دوستی کا دم کیوں بھریں لیکن وہ اللہ کی نظروں میں کوئی مقام کس طرح حاصل کرسکتے ہیں جب وہ اپنے طرز عمل سے اس فساد کو ہوا دے رہے ہیں جس کے نتیجہ میں تمام انسانیت کی تباہی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جب یہ دنیا بنائی ہے تو وہ اس کی فلاح و بہبود کو پسند کرتا ہے، اس میں فساد اور مفسدین کو وہ پسند نہیں کرتا۔
Tadabbur-e-Quran - 2 : 205