تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 2. Al-Baqara · Ayah 270
وَ مَاۤ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ نَّفَقَةٍ اَوْ نَذَرْتُمْ مِّنْ نَّذْرٍ فَاِنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُهٗ١ؕ وَ مَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ اَنْصَارٍ﴿270﴾
- وَمَآاور جو
- اَنْفَقْتُمْتم خرچ کرو گے
- مِّنْسے
- نَّفَقَةٍکوئی خیرات
- اَوْیا
- نَذَرْتُمْتم نذر مانو
- مِّنْ نَّذْرٍکوئی نذر
- فَاِنَّتو بیشک
- اللّٰهَاللہ
- يَعْلَمُهٗاسے جانتا ہے
- وَمَااور نہیں
- لِلظّٰلِمِيْنَظالموں کے لیے
- مِنْ اَنْصَارٍکوئی مددگار
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور جو کچھ بھی تم خرچ کرو گے یا جو کچھ بھی نذر مانو گے تو یاد رکھو کہ اللہ اس سے اچھی طرح واقف ہے اور ان لوگوں کا کوئی بھی مددگار نہ ہوگا جو اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والے ہیں۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
نذر کا مفہوم یہ ہے کہ آدمی منت مانے کہ اگر میری فلاں مراد پوری ہوگئی تو میں فلاں مراد پوری ہوگئی تو میں فلاں عبادت یا ریاضت یا اتنا صدقہ کروں گا۔ اسلام میں میں جیسا کہ احادیث سے واضح ہے، منت ماننے کو مستحسن نہیں قرار دیا گیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ ایک قسم کا عہد ہے جو منت ماننے والا اپنے رب سے کر رہا ہے اور عہد چھوٹا ہو یا بڑا اگر خلاف شریعت نہیں تو اس کو پورا کرنا ضروری ہے اس لیے کہ خدا کے ہاں ہر عہد سے متعلق، خواہ وہ چھوٹا ہو یا بڑا، پرسش ہونی ہے۔ ہم سورة مائدہ میں بتائیں گے کہ تمام شریعت اور اور تمام اخلاق کی بنیاد عہد ہی پر ہے اس وجہ سے اسلام نے اس پہلو میں کسی ڈھیل کو گوارا نہیں کیا ہے۔
فَاِنَّ اللّٰهَ يَعْلَمُهٗ ، یہ ٹکڑا شرط کے جواب کی حیثیت رکھتا ہے۔ یعنی جو شخص خدا کی راہ میں کچھ خرچ کرتا ہے یا اس کے لیے کوئی منت مانتا ہے تو وہ یہ اطمینان رکھے کہ خدا اس کی خیرات اور اس کی نذر ہر چیز کو اچھی طرح جانتا ہے۔ ‘ جانتا ہے ’ سے مقصود اس کا لازم ہے یعنی جب وہ جانتا ہے تو لازماً وہ اس کا اپنے وعدے کے مطابق صلہ بھی دے گا۔ زبان کا یہ اسلوب عربی زبان اور قرآن میں بہت عام ہے۔
وَمَا لِلظّٰلِمِيْنَ مِنْ اَنْصَارٍ ، ظالم سے مراد یہاں خود اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والے ہیں یعنی وہ لوگ جو یا تو دولت دنیا ہی کو معبود بنائے بیٹھے ہیں، خدا کی راہ میں سرے سے خرچ کرتے ہی نہیں یا خرچ کرتے ہیں تو ریا، احسان داری اور دل آزاری سے اس کو برباد کرکے رکھ دیتے ہیں۔ فرمایا کہ ایسے لوگ بدقسمت ہیں، ان کا سارا اعتماد انفاق و ایثار اور خدا کے فضل و رحمت کے بجائے اپنے مال اور اپنے جھوٹے معبودوں پر ہے یہ ان پر تکیہ کیے بیٹھے ہیں، حالانکہ خدا کے ہاں ان کا کوئی مددگار نہ ہوگا۔