Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 20. Taa-Haa · Ayah 105

  1. وَ یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الْجِبَالِ فَقُلْ یَنْسِفُهَا رَبِّیْ نَسْفًاۙ﴿105﴾

    1. وَيَسْئَلُوْنَكَاور وہ آپ سے دریافت کرینگے
    2. عَنِ الْجِبَالِپہاڑ کے متعلق
    3. فَقُلْتو کہ دیں
    4. يَنْسِفُهَاانہیں بکھیر دیگا
    5. رَبِّيْمیرا رب
    6. نَسْفًااڑا کر
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور وہ تم سے پہاڑوں کی بابت سوال کرتے ہیں کہہ دو کہ میرا رب ان کو گرد و غبار کی طرح اڑا دے گا
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
آیت 107-105 نسف کے معنی نسف کے معنی ہیں کسی چیز کو جڑ سے اکھاڑ دینا، غلہ کو چھاج میں رکھ کے پھٹکنا کسی چیز کو خس و خاشاک اور خاک اور راکھ بنا کر ہوا میں اڑا دینا یذرہا میں ضمیر کا مرجع زمین ہے ظاہر اور مشہور چیزوں کے لئے عربی میں اس طرح ضمیر لاتے ہیں قرآن میں آسمان اور زمین وغیرہ کے لئے اس طرح متعدد جگہ ضمیریں آئی ہیں ماترک علی ظھر مامن دآبۃ اور روئے زمین پر کسی جاندار کو باقی نہیں چھوڑے گا) میں بھی ضمیر کا مرجع زمین ہے اگرچہ الفاظ میں اس کا ذکر نہیں ہے۔ قاع ضفعف ہموار اور چٹیل میدان کو کہتے ہیں جس میں نہ نشیب و فراز ہو نہ سبزہ و نباتات نہ درخت اور جنگل امت بلندی اور فراز کو کہتے ہیں۔ پہاڑوں کے غیر فانی ہونے کا نظریہ اور اس کا ابطال قیامت کے باب میں اہل عرب کو جس طرح وہ مغالطہ تھا جو اوپر مذکور ہوا اسی طرح وہ اس مغالطہ میں بھی مبتلا تھے کہ بھلا یہ کس طرح ممکن ہے کہ کسی دن روئے زمین سے یہ تمام پہاڑ غائب ہوجائیں۔ عوام تو درکنار ان کے بہت سے دانشوروں تک کا خیال یہ تھا کہ پہاڑ غیر فانی ہیں۔ زہیر جو عرب کے حکیم شعراء میں سے ہے کہتا ہے کہ الا اری علی احلوادث باقیا ولا خالد الا الجبال الرواسیا (حوادث روزگار کے مقابل میں ان مسحتکم پہاڑوں کے سوا میں اور کسی چیز کو بھی قائم و دائم رہنے والی خیال نہیں کرتا) جب قرآن لوگوں کو قایمت کے زلزلہ سے ڈراتا تو اسی مغالطہ کی بنا پر بہت سے تاوان آنحضرت صلعم سے، طنز اور مذاق کے انداز میں، سوال کرتے کہ جب قیامت آئے گی تو ان عظیم الشان پہاڑوں کا کیا بنے گا ؟ کیا وہ ان کو بھی جڑ سے اکھاڑ پھینکے گی ! فرمایا کہ ان سے کہہ دو کہ ہاں۔ میرا رب ان کو بھی پاش پاش کر کے گرد و غبار کی طرح اڑا دے گا اور اس زمین کو بالکل صفا چٹ چھوڑ دے گا، نہ اس میں کسی سبزہ اور درخت کا نشان ہوگا اور نہ اس میں وادیاں اور کہسار اور نشیب و فراز ہوں گے ! ! عرب جاہلیت تو پہاڑوں کو ناقابل تسخیر سمجھتے تھے اس لئے کہ ان کے نزدیک پہاڑ ہی بڑی چیز تھے لیکن اس زمانے کا انسان خود اپنے آپ کو ناقابل تسخیر سمجھتا ہے اور اس زعم میں مبتلا ہے کہ وہ بہت جلد ساری کائنات کو مسخر کرلے گا۔ اس زعم کی موجوگدی میں ظاہر ہے کہ اس کے نزدیک قیامت کا سوال بالکل خارج از بحث ہے ! !