Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 20. Taa-Haa · Ayah 104

  1. نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا یَقُوْلُوْنَ اِذْ یَقُوْلُ اَمْثَلُهُمْ طَرِیْقَةً اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا یَوْمًا۠ع﴿104﴾

    1. نَحْنُہم
    2. اَعْلَمُخوب جانتے ہیں
    3. بِمَاوہ جو
    4. يَقُوْلُوْنَوہ کہتے ہیں
    5. اِذْ يَقُوْلُجب کہے گا
    6. اَمْثَلُهُمْسب سے اچھی
    7. طَرِيْقَةًراہ
    8. اِنْنہیں
    9. لَّبِثْتُمْرہے تم
    10. اِلَّامگر (صرف)
    11. يَوْمًاایک دن
Translation · Tadabbur-e-Quran
ہم خوب جاتنے ہیں جو کچھ وہ کہیں گے جب کہ ان میں جو سب سے بڑا لال بجھکڑ ہوگا کہے گا کہ بس زیادہ سے زیادہ ایک دن تم ٹھہرے ہو گے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
یعنی کوئی یہ نہ سمجھے کہ ہم اس دن کے احوال و احساسات کی یہ خبر جو دے رہے ہیں یہ محض ہوائی باتیں ہیں جو صرف مرعوب کرنے کے لئے سنائی جا رہی ہیں۔ بلکہ یہ حقائق ہیں جو پیش آئیں گے۔ اس دن لوگ جو کچھ کہیں گے ان سے سب سے زیادہ واقف ہم ہیں۔ یہ دس دن والی بات تو الگ رہی اس دن ان کے اندر جو سب سے زیادہ معقول دانشمند اور اندازہ دان سمجھا جاتا ہوگا وہ یہ کے گا کہ دس دن کہاں ! بس زیادہ سے زیادہ ایک دن تم دنیا میں رہے ہو گے ! امثل کے معنی امثل کے معنی افضل و برتر کے ہیں یہاں یہ لفظ بطریق تعریض استعمال ہو ہے یعنی ان کے اندر جو سب سے زیادہ لال بجھکڑ مانا جاتا ہوگا وہ اپنی اندازہ دانی کا یہ ثبوت فراہم کرے گا ! عرب جاہلیت کی شاعری پر جن لوگوں کی نظر ہے وہ جاتنے ہیں کہ ان ایٓتوں میں جس مغالطہ پر متنبہ کیا گیا ہے اسی مغالطہ میں مبتلا ہو کر بہت سے شاعروں نے قیامت کو حدیث خزانہ یعنی ایک مہمل بات قرار دیا ہے۔ میں ان شعروں کے نقل کرنے سے قصداً احتراز کر رہا ہوں اور ان کے نقل کرنے کی کوئی خاص ضرورت بھی نہیں ہے اس لئے کہ یہ مغالطہ صرف دور جاہلیت کے ساتھ مخصوص نہیں ہے بلکہ اس دور تمدن کے لوگوں کا بھی اصل مغالطہ یہی ہے۔ … قرآن نے اسی مغالطہ پر متنبہ کیا ہے۔