Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 20. Taa-Haa · Ayah 108

  1. یَوْمَئِذٍ یَّتَّبِعُوْنَ الدَّاعِیَ لَا عِوَجَ لَهٗ١ۚ وَ خَشَعَتِ الْاَصْوَاتُ لِلرَّحْمٰنِ فَلَا تَسْمَعُ اِلَّا هَمْسًا﴿108﴾

    1. يَوْمَئِذٍاس دن
    2. يَّتَّبِعُوْنَوہ سب پیچھے چلیں گے
    3. الدَّاعِيَایک پکارنے والا
    4. لَا عِوَجَنہیں کوئی کجی
    5. لَهٗاس کے لیے
    6. وَخَشَعَتِاور پست ہوجائیں گی
    7. الْاَصْوَاتُآوازیں
    8. لِلرَّحْمٰنِاللہ کیلئے۔ سامنے
    9. فَلَا تَسْمَعُپس تو نہ سنے گا
    10. اِلَّامگر (صرف)
    11. هَمْسًاآہستہ آواز
Translation · Tadabbur-e-Quran
اس دن سب پکارنے والے کے پچیھے چل پڑیں گے۔ مجال نہیں کہ ذرا اس سے کج ہو سکیں اور ساری آوازیں خدائے رحمان کے آگے پست ہوجائیں گی، بس تم صرف کا نا پھوسی ہی سنو گے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
ھس کے معنی باریک اور پست آواز کے ہیں جو کا نا پھوسی کی نوعیت کی ہو۔ فرمایا کہ آج تو لوگ ہمارے داعی کی بات نہیں سن رہے ہیں وہ صراط مستقیم کی دعوت دے رہا ہے تو یہ کج ہو کے چل رہے ہیں، اس کی مخالفت میں گلے پھاڑ رہے ہیں۔ لیکن اس دن کا داعی جب پکارے گا تو سب اس کے پیچھے چل پڑیں گے، کسی کی مجال نہ ہوگی کہ سر مواس سے انحراف کرسکے اور خدائے رحمان کی ہیبت کے آگے سب کی آوازیں پست ہوجائیں گی، کسی کے حلق سے بھی آواز نہیں نکلے گی جو بھی بات کرے گا سرگوشی اور کا نا پھوسی کے انداز میں بات کرے گا۔