Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 20. Taa-Haa · Ayah 109

  1. یَوْمَئِذٍ لَّا تَنْفَعُ الشَّفَاعَةُ اِلَّا مَنْ اَذِنَ لَهُ الرَّحْمٰنُ وَ رَضِیَ لَهٗ قَوْلًا﴿109﴾

    1. يَوْمَئِذٍاس دن
    2. لَّا تَنْفَعُنہ نفع دے گی
    3. الشَّفَاعَةُکوئی شفاعت
    4. اِلَّامگر
    5. مَنْجس
    6. اَذِنَ لَهُاجازت دے اس کو
    7. الرَّحْمٰنُاللہ
    8. وَرَضِيَاور پسند کرے
    9. لَهٗاس کی
    10. قَوْلًابات
Translation · Tadabbur-e-Quran
اس دن شفاعت نفع نہ دے گی الا آنکہ خدائے رحمان جس کو اجازت دے اور جس کے لئے کوئی بات کہنے کو پسند کرے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
آیات 109 شفاعت کے لئے شرائط استثناء میرے نزدیک یہاں منقطع ہے۔ یہ عربوں کی مزعومہ شفاعت کی تردید ہے۔ ان کا زعم یہ تھا کہ وہ جس معبودوں کو پوجتے ہیں وہ خدا کے لاڈلے اور چہیتے ہیں۔ وہ خود آگے بڑھ کر اپنے پجارویں میں سے جس کے لئے چاہیں گے سفارش کریں گے اور اس کو خدا سے چھڑا لیں گے۔ ان کے اس زعم کی تردید میں فرمایا کہ اس دن کسی کی شفاعت کسی کے کچھ کام آنے والی نہیں ہے حالانکہ خدائے رحمان کسی کو شفاعت کی اجازت دے اور کسی کے بارے میں وہ کسی کے کچھ کہنے کو پسند فرمائے۔ یعنی جو شفاعت کرے گا وہ بھی خدا کی اجازت سے کرے گا اور جس کے لئے شفاعت کی جائے گی وہ بھی بایں شرط مشروط ہے کہ خدا اس کے بارے میں کسی کے سفارش کرنے کو پسند فرمائے۔ مطلب یہ ہے کہ کام آنے والی شفاعت بیک وقت ان دو شرطوں کے ساتھ مشروط ہے۔ اگر کسی نے شفاعت سے متعلق ان شرائط سے قطع نظر کر کے کوئی اپنا نظریہ ایجاد کر رکھا ہے تو وہ محض اس کا واہمہ ہے جس کی حقیقت قیامت کے دن اس کے سامنے آجائے گی۔ سورة انبیاء کی آیت 28 کے تحت انشاء اللہ اس مضمون کی مزید وضاحت آئے گی۔