Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 20. Taa-Haa · Ayah 125

  1. قَالَ رَبِّ لِمَ حَشَرْتَنِیْۤ اَعْمٰى وَ قَدْ كُنْتُ بَصِیْرًا﴿125﴾

    1. قَالَوہ کہے گا
    2. رَبِّاے میرے رب
    3. لِمَ حَشَرْتَنِيْٓتونے مجھے کیوں اٹھایا
    4. اَعْمٰياندھا
    5. وَاندھا
    6. قَدْ كُنْتُمیں تو تھا
    7. بَصِيْرًادیکھتا۔ بینا
Translation · Tadabbur-e-Quran
وہ کہے گا اے رب تو نے مجھے اندھا کر کے کیوں اٹھایا، میں تو بینا تھا !
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
آیت 126-125 نسی کے معنی یہاں نظر انداز کرنے کے ہیں۔ لفظ کے اس مفہوم کی وضاحت دوسرے مقام میں ہوچکی ہے۔ فرمایا کہ جو لوگ اندھے اٹھائے جائیں گے وہ فریاد کریں گے کہ اے رب ! ہم تو آنکھیں رکھنے والے لوگ تھے تو تو نے ہم کو اندھے بنا کر کیوں اٹھایا ! ارشاد ہوگا کہ ہم نے تمہایر پاس اپنی کتاب بھیجی جس کی آیات نے ایک ایک حقیقت تم پر واضح کی لیکن تم ان کو نظر انداز کر کے بالکل اندھے بہرے بنے رہے۔ مطلب یہ کہ اگر آنکھیں تھیں تو وہ آنکھیں ہماری اس ساری تذکیر و تنبیہ کے باوجود کیوں نہ کھلیں ؟ جب تم نے اس وقت اپنی آنکھیں نہیں کھولیں تو سزاوار ہو کہ تمہاری آنکھیں بند ہی رہیں۔ وکذلک الیوم تنسیٰ یعنی اب تمہارا یہ نالہ و شیون بےسود ہے۔ جس طرح تم نے ہماری آیات کو نظر انداز کیا اسی طرح تم سزاوار ہو کہ نظر انداز کئے جائو اور تمہاری اس فریاد پر کوئی توجہ نہ کی جائے !