تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 20. Taa-Haa · Ayah 124
وَ مَنْ اَعْرَضَ عَنْ ذِكْرِیْ فَاِنَّ لَهٗ مَعِیْشَةً ضَنْكًا وَّ نَحْشُرُهٗ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ اَعْمٰى﴿124﴾
- وَمَنْاور جس
- اَعْرَضَمنہ موڑا
- عَنْسے
- ذِكْرِيْمیرے ذکر۔ نصیحت
- فَاِنَّتو بیشک
- لَهٗاس کے لیے
- مَعِيْشَةًگزران
- ضَنْكًاتنگ
- وَّنَحْشُرُهٗاور ہم اسے اٹھائیں گے
- يَوْمَ الْقِيٰمَةِقیامت کے دن
- اَعْمٰىاندھا
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور جو میری یاد دہانی سے اعراض کرے گا تو اس کے لئے عنیق کی زندگی ہوگی اور قیامت کے دن ہم اس کو اندھا اٹھائیں گے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
آیت 124
ایمان کے بغیر طمانیت نہیں حاصل ہوتی
معیشۃ ضنک کے معنی تنگ زندگی کے ہیں جو سکون و طمانیت اور فراغ فاطر و شرح صدر کی نعمت سے محروم ہو فرمایا کہ جو ہماری اس یاد دہانی سے اعراض کرے گا وہ دنیا کون قلب و شرح صدر سے محروم زندگی گزارے گا اور قیامت کے دن ہم اس کو اندھا اٹھائیں گے۔
طمانیت قلب ذکر الٰہی ہے
سکون قلب و شرح صدر سے اس کی زندگی کے محروم ہونے کی وجہ یہ ہے کہ انسان کے اندر ایک خلا ہے جو اللہ کے ایمان کے سوا کسی چیز سے نہیں بھر سکتا اس وجہ سے جب تک اس کو ایمان حاصل نہ ہو کوئی دوسری چیز اس کو تسلی و طمانیت سے بہرہ مند نہیں کرسکتی دوسری چیزیں خواہ وہ بظاہر کتنی ہی شادنار اور دلفریب کیوں نہ ہوں، وقتی بہلاوے کا کام تودے سکتی ہیں لیکن قلب و روح کی بےقراری کو رفع نہیں کرسکتیں جب بچہ بھوک سے روتا ہے تو اس کے منہ میں چسنی یا نپل دے کر کچھ دیر کے لئے بہلایا جاسکتا ہے لیکن وہ آسودہ اسی وقت ہوتا ہے جب ماں اس کو چھاتی ہے لگاتی اور اس کو دودھ پلاتی ہے۔ اس کے بغیر اس کی بےچینی نہیں جاتی۔ یہی حال انسان کا ہے وہ اپنے لئے جو اسباب و سامان بھی مہیا کرلے لیکن اگر وہ خدا کے ایمان سے محروم ہے تو وہ غیر مطمئن، ڈالو اڈول، اندیشہ ناک، مضطرب اور اندرونی خلفشار میں مبتلا رہے گا، اگرچہ وہ اپنی نمائشوں سے اس پر کتنا ہی پردہ ڈالنے کی کوشش کیر۔ نفس مطمئنہ کی بادشاہی صرف سچے اور پکے ایمان ہی سے حاصل ہوتی ہے۔ الا بذکر اللہ تطمین القلوب !
ایک سوال اور اس کا جواب
ممکن ہے کسی کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہو کہ بہت سے لوگ ایمان کے مدعی ہوتے ہیں لیکن ان کی زندگی نہایت پریشان حالی و پراگندہ بالی کی ہوتی ہے۔ برعکس اس کے کتنے ہیں جو خدا کو محض ایک وہم سمجھتے ہیں لیکن وہ بڑی بےفکری و طمانیت کی زندگی بسر کرتے ہیں ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اول تو یہاں بحث ایمان کے مدعیوں سے نہیں بلکہ حقیقی اہل ایمان سے ہے۔ ثانیاً جن لوگوں کو خدا سے بےپروا ہونے کے باوجود ہم مطمئن خیال کرتے ہیں ہم صرف ان کے اندر کتنے خطرے اور کتنے خلجان چھپے ہوئے بیٹھے ہیں لیکن یہ ہر ایک کو نظر نہیں آتے۔ ان کو وہ خود دیکھتے ہیں یا وہ لوگ دیکھ سکتے ہیں جن کے اندر ایمانی بصیرت ہو۔
ذکر الٰہی سے غاقبل قیامت کو اندھے اٹھیں گے
ونحشرہ یوم القیمۃ اعمی، اللہ کے ذکر سے اعراض کرن والے قیامت کے روز اندھے اٹھائے جائیں گے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آنکھ، کان اور دل کے پردے اٹھانے والی چیز اللہ کی یاد دہانی ہے۔ اگر کوئی شخص اس یاد دہانی سے اعراض کرتا ہے تو جیسا کہ قرآن میں تصریح ہے، وہ آنکھیں کان اور دل و دماغ رکھتے ہوئے، اندھا بہرا اور لایعقل ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنی ان عظیم نعمتوں کی ناقدری کی پاداش میں ایسے بلید جانوروں کو اندھا بنا کر اٹھائے گا۔ یہ نعمتیں اللہ تعالیٰ اپنی ان عظیم نعمتوں کی ناقدری کی پاداش میں ایسے بلید جانوروں کو اندھا بنا کر اٹھائے گا۔ یہ نعمتیں اللہ تعالیٰ نے صرف محسوسات کی غلامی کے لئے نہیں عطا فرمائی ہیں بلکہ ان حقائق کے مشاہدے کے لئے عطا فرمائی ہیں جو اس کائنات کے ذرہ ذرہ اور پتہ پتہ پر نقش ہیں، اگر کوئی شخص سب کچھ دیکھتا ہے لیکن اس کو وہی حقیقت نظر نہیں آتی جو سب سے زیادہ نمایاں ہے تو ہرچند وہ سب کچھ دیکھتا ہے لیکن اس کو سوجھتا کچھ بھی نہیں۔
دیکھتا سب کچھ ہوں لیکن سوجھتا کچھ بھی نہیں !
ایک سوال کا جواب
یہاں ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سورة ق میں فرمایا ہے فکشفنا عنک غطآءک فبصرک الیوم حدید 22 (پس ہم نے تیرے حجابات ہٹا دیئے تو تیری نگاہ آج بہت تیز ہے) او یہاں ارشاد ہوا ہے کہ ہم اس کو اندھا اٹھائیں گے، تو ان دونوں میں تطبیق کس طرح ہوگی ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ان دونوں باتوں میں کوئی تضاد نہیں ہے۔ سورة ق میں جو بات فرمائی گی ہے وہ ہے تم اس قیامت کی طرف سے بالکل غافل رہے لیکن آج سارے حقائق سامنے آگئے اور سارے پردے چاک ہوگئے ! اس اسلوب کلام کے اندر خاص بلیغ پہلو یہ ہے کہ اس دنیا میں تو محسوسات کے غلام اندھے بن کر زندگی گزارتے ہیں لیکن انک ونہ صرف یہ کہ اپنے اندھے ہونے کا کوئی احساس نہیں ہوتا بلکہ وہ اپنے آپ کو بڑا سقراط و بقراط اور بڑا ہی دانا و بینا سمجھتے ہیں لیکن قیامت کے دن ان کو اپنا اندھا ہونا نظر آجائے گا۔ آج تو یہ حال ہے کہ ہمارے سائنس دانوں کی آنکھیں تمام دور بینوں اور خورد بینوں سے مسلح ہونے کے باوجود خود اپنی آنکھیں دیکھنے سے بھی قاصر ہیں لیکن ایک دن آنے الا ہے جب سارے پردے اٹھ جائیں گے اور کسی کے لئے بھی مجال انکار باقی نہیں رہے گی، اسی انکشاف حقیقت کو فبصرک الیوم حدید سے تعبیر فرمایا ہے۔