Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 20. Taa-Haa · Ayah 133

  1. وَ قَالُوْا لَوْ لَا یَاْتِیْنَا بِاٰیَةٍ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ اَوَ لَمْ تَاْتِهِمْ بَیِّنَةُ مَا فِی الصُّحُفِ الْاُوْلٰى﴿133﴾

    1. وَقَالُوْااور وہ کہتے ہیں
    2. لَوْکیوں
    3. لَا يَاْتِيْنَانہیں لاتے
    4. بِاٰيَةٍکوئی نشانی
    5. مِّنْسے
    6. رَّبِّهٖاپنا رب
    7. اَوَکیا
    8. لَمْ تَاْتِهِمْان کے پاس نہیں آئی
    9. بَيِّنَةُواضح نشانی
    10. مَاجو
    11. فِيمیں
    12. الصُّحُفِصحیفے
    13. الْاُوْلٰىپہلے
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور یہ کہتے ہیں کہ یہ اپنے رب کے پاس سے ہمارے لئے کوئی نشانی کیوں نہیں لاتے ! کیا ان کے پاس اگلے صحیفوں میں جو کچھ مذکور ہے اس کی دلیل نہیں پہنچی !
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
133۔ 135 مخالفین جب دلائل کے میدان میں ہر طرف سے پسپا ہوجاتے تو ان کا آخری حربہ یہ ہوتا کہ وہ مطالبہ کرتے کہ اگر یہ رسول ہیں تو اپنی رسالت کے ثبوت میں یہ اپنے رب کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نہیں پیش کرتے، نشانی سے مراد کوئی حِسی معجزہ بھی ہوتا اور اس طرح کا کوئی عذاب بھی جس سے قرآن ان کو رسول کی تکذیب کی صورت میں آگاہ کررہا تھا۔ اس سوال کے اٹھانے میں بھی زیادہ داخل اہل کتاب کو تھا۔ وہ مشرکین کو اس دور میں جس طرح بہت سے سوالات تھا کرتے تھے جن کی مثالیں پیچھے گزر چکی ہیں، اسی طرح یہ سبق بھی پڑھاتے تھے کی ان مدعی رسالت سے مطالبہ کرو کہ جس طرح پچھلے رسولوں نے بہت سی نشانیاں دکھائیں یہاں تک کہ ان کی خبر کے مطابق ان کی قوموں پر عذاب بھی آئے، آخر یہ اس طرح کی کوئی نشانی کیوں نہیں دکھاتے۔ قرآن مجید نے یہ اس مطالبہ کا جواب دیا اور اس جواب میں ان لوگوں کو بھی پیش نطر رکھا گیا جوان سولات کے لئے وسوسہ اندازی کرتے تھے اور ان لوگوں کو بھی جو ان کو پیش کرتے تھے۔ اس آیت میں پہلے گروہ کو جواب دیا ہے اور اس کے بعد والی آیت میں دوسرے گروہ کو۔ پہلے گروہ یعنی اہل کتاب کو یہ جواب دیا کہ کیا ان کے لئے یہ نشانی کافی نہیں ہے کہ پچھلے صحیفوں میں جس آخری رسول کی بعثت کی بشارتیں تھیں ان کا مظہرا اور مصداق ان کے سامنے آگیا جس نے ان تمام پیش گوہوں کی تصدیق و تائیدان کے سامنے کردی ؟ ہم نے سورة بقرہ اور آلِ عمران کی تفسیر میں ان پیش گوہوں کا تفصیل سے حوالہ دیا ہے اور یہ بھی واضح کیا ہے کہ آنحضرت کو سابق صحیفوں کا جو مصدق کہا گیا ہے اس کا مطلب ہے کہ آپ کی بعثت نے ان تمام پیش گوہوں کی عمل تصدیق کردی۔ اس تصدیق کو یہاں بینت کے لفظ سے تعبیر فرمایا ہے۔ اب یہ دوسرے گروہ یعنی مشرکین عرب کو پیش نظر رکھ کر جواب دیا کہ شامت زدہ لوگ دوسروں کہ القاء سے متاثر ہو کر عذاب تو مانگتے ہیں لیکن اگر ہم رسول کے بھیجنے سے پہلے ان پر عذاب بھیج دیتے تو یہ قیامت کے روز یہ غدر کرتے کہ اے رب تو نے ہمارے پاس کوئی رسول کیوں نہ بھیجا کہ ہم اس ذلت و رسائی سے دو چار ہونے سے پہلے تیری آیات کی پیروی کرتے۔ مطلب یہ کہ ہم نے اس غدر کو ختم کردینے کے لئے ان کے پاس اپنا رسول بھیج دیا۔ اب ان پر محبت ت، تمام ہوگئی۔ اگر اس کے بعد بھی یہ ایمان نہیں لاتے تو ان کے سامنے وہی چیز ظاہر ہوگی جس کا یہ مطالبہ کررہے ہیں۔ ذلت اور خزی کے الفاظ اپنے عام استعمال میں ایک دوسرے کے مفہوم میں بھی آتے ہیں لیکن جب یہ ایک ساتھ آئے جس طرح یہاں آئے ہیں تو ان کے درمیان ایک نازک سا فرق ہوجاتا ہے۔ اس صورت میں ذلت سے مراد وہ ذلّت ہوتی ہے جس کا احساس ایک ذلیل ہونے والا خود اپنے باطن میں کرتا ہے اور خزی سے وہ رسوئی مراد ہوتی ہے جو دوسروں کے سامنے اس کو ہوتی ہے۔ مطلب یہ کہ نہ ہم اپنی نگاہوں میں ذلیل ہوتے اور نہ دوسروں کے آگے ہی رسوائی اور فضیحتا کی یہ نوبت آتی۔ یہ آخری وارننگ ہے۔ اوپر کی دونوں آیتوں میں بات غائب کے صیغوں میں منہ پھیر کر فرمائی گئی ہے۔ اس میں شدت عتاب کے اظہار کے پہلو سے خطاب کے اسلوب میں فرمایا کہ ان سے کہہ دو کہ اب فیصلہ کن مرحلہ سامنے ہے۔ دونوں پارٹیاں انتظار میں ہیں کہ اس کشمکش کا آخری انجام کیا ہوتا ہے اور اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے تو چندے انتظار کرو عنقریب تم پر واضح ہوجائے گا کہ سیدھی اور ہموار راہ پر کون تھے اور وہ منزل مقصود پر پہنچنے والے بنے اور کون گمراہی کی راہ پر تھے اور وہ ہلاکت کے کھڈ میں گرے ! اس آیت میں میرے نزدیک قرینہ کی وضاحت کی بنا پر کا مقابل جملہ محذوف ہے۔ اس قسم کے حذف کی مثالیں پیچھے گزر چکی ہیں۔ میں نے اس محذوف کو کھول دیا ہے۔ ان سطور پر سورة کی تفسیر تمام ہوئی۔ اللہ تعالیٰ نفرشوں سے در گزر فرمائے اور صحیح باتوں کے لئے میں جگہ پیدا کرئے۔