تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 20. Taa-Haa · Ayah 132
وَ اْمُرْ اَهْلَكَ بِالصَّلٰوةِ وَ اصْطَبِرْ عَلَیْهَا١ؕ لَا نَسْئَلُكَ رِزْقًا١ؕ نَحْنُ نَرْزُقُكَ١ؕ وَ الْعَاقِبَةُ لِلتَّقْوٰى﴿132﴾
- وَاْمُرْاور حکم دو تم
- اَهْلَكَاپنے گھر والے
- بِالصَّلٰوةِنماز کا
- وَاصْطَبِرْاور قائم رہو
- عَلَيْهَااس پر
- لَا نَسْئَلُكَہم تجھ سے نہیں مانگتے
- رِزْقًارزق
- نَحْنُہم
- نَرْزُقُكَتجھے رزق دیتے ہیں
- وَالْعَاقِبَةُاور انجام
- لِلتَّقْوٰىاہل تقویٰ کے لیے
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور اپنے لوگوں کو نماز کا حکم دو اور اس پر جمے رہو۔ ہم تم سے رزق کا مطالبہ نہیں کرتے ہم تم کو رزق دیں گے اور انجام کار کی فیروز مندی تقویٰ کے لئے ہے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
لفظ احل کا مفہوم
لفظ ھل یہاں صرف اہل بیت نبی کے مفہوم میں نہیں ہے۔ یہ لفظ عربی میں وسیع معنوں میں آتا ہے۔ مثلاً اہل کتاب، اہل انجیل، اہل قریہ، اہل اللہ، اہل قرون اور اہل حدیث وغیرہ لسان العرب میں ہے اھل الرجل اخص الناس بہ (اہل الرجل سے مراد وہ لوگ ہوتے ہیں جو اس شخص سے خاص تعلق رکھنے والے ہوتے ہیں) اھر کل تبی امتہ (نبی کے اہل سے اس کے امتی مراد ہوتے ہیں) سیدنا ابوبکر صدیق سے حضرت عمر کے خلیفہ بنانے کے بارے میں روایت ہے کہ جب قیامت کے دن میرا رب مجھ سے پوچھے گا کہ مسلمانوں کا والی کس کو بنا کے آئے ہو تو عرض کردوں گا کہ استعملت علیھم خیراھلک (میں نے ان پر تیرے بہترین اہل کو خلیفہ بنایا ہے) سورة مریم کی آیت میں سیدنا اسماعیل کے متعلق ارشاد ہوا ہے۔ وکان یا مراھلہ بالصلوۃ و الزکوۃ ظاہر ہے کہ یہاں بھی اھل سے حضرت اسماعیل کے بیوی بچے ہیں مراد نہیں ہیں بلکہ وہ تمام لوگ مراد ہیں جو ان سے وابستہ تھے۔
اسی طرح آیت زیر بحث میں بھی اھل سے وہ تمام لوگ مراد ہیں جو نبی ﷺ پر ایمان لانے تھے، عام اس سے کہ حضور کے خاص متعلقین ہوں یا دوسرے مسلمان اور عام اس سے کہ وہ قرشی و ہاشمی ہوں یا لونڈی اور غلام ان سب کو نبی ﷺ کے اہل سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اس لئے کہ فی الحققتو وہ سب لوگ نبی کے کنبہ کے افراد ہوتے ہیں جو اس پر ایمان لاتے ہیں اور نبی کو اسی طرح ان کی خبر گیری کی فکر ہوتی ہے جس طرح کسی کو اپنے خاص کنبہ کی خبر گیری کی فکر ہوتی ہے۔ غور کیجیے کہ یہاں لفظ اھل نے غربائے مسلمین کی کتنی عزت و شان بڑھائی ہے۔ جن بیچاروں کا ابھی تک کوئی پرسان حال نہیں تھا اللہ تعالیٰ نے ان کو حضرت سرور عالم ﷺ کے اہل میں شامل کردیا ! !
وامراھلک بالصلوۃ واصطیر علیھا ارشاد ہوا کہ تم اپنے لوگوں کو نماز کی ہدایت کرو اور اس پر جمے رہو۔ نماز سے مراد وہی نماز ہے جس کا اوپر والی آیت میں حکم دیا گیا ہے۔ یعنی اپنے اور اپنے لوگوں کے اندر صبر و استقامت پیدا کرنے کے لئے نماز کا اہتمام کرو اور استقلال کے ساتھ اس کا پورا پورا اہتمام کرو اصطبر علیھا کا صحیح مفہوم یہ ہے کہ جس طرح ایک کا سن اپنے کھیت میں ہل چلاتا ہے، اس میں تخم ریزی کرتا، اس کو پانی دیتا اور برابر اس کی نگرانی کرتا ہے اسی طرح تم اپنے اس مبارکہ مزرعہ میں پوری محنت اور اس کی پوری حفاظت کرو پھر دیکھو کہ اس سے دین و دنیا کی کیا برکتیں حاصل ہوتی ہیں ! وہ برکتیں اس سے حاصل ہوں گی کہ نہال ہو جائو گے ! تمہیں کسی اور کی طرف نگاہ اٹھانے کی احتیاج باقی نہیں رہے گی ! !
لانسلک رزقاً یعنی تمہارے اور تمہارے جاں نثاروں کے لئے روزی فراہم کرنے کی ذمہ داری ہم نے نہ تم پر ڈالی ہے اور نہ ہم تم سے اس کا مطالبہ کرتے ہیں، اس کی ذمہ داری ہم پر ہے نحن نوزقک ہم تمارے رزق کے ذمہ داری ہیں تم ہمارا کام کرو اور نماز کا اہتمام رکھو۔ باقی جو ذمہ داری ہماری ہے وہ ہم پرچھوڑو۔ تم اس کے لئے فکر مند نہ ہو۔ سیدنا مسیح نے اسی حقیقت کو یوں واضح فرمایا ہے کہ ”جو مزدور اپنی ڈیویٹی پر ہے وہ اپنی مزدوری کا حق دار ہے۔“
اسلامی نظام میں خلیفہ اور حکمران اسلامی کنبہ کا قیم ہوتا ہے
یہاں نرزقک میں ضمیر خطاب واحد پر بھی نظر رہے۔ یہ نہیں فرمایا کہ ہم تم کو اور تمہارے لوگوں کو روزی دیں گے، بلکہ فرمایا کہ ہم تم کو روزی دیں گے، آنحضرت صلعم سے یہ خطاب الامی کنبہ کے سربراہ اور قیم کی حیثیت سے ہے۔ جب کنبہ کے قیم سے یہ وعدہ کیا جا رہا ہے تو ظاہر ہے کہ اس کے پورے کنبہ یعنی تمام مسلمانوں کے لئے کیا جا رہا ہے۔ اسلامی نظام میں خلیفہ اور حکمران کی حیثیت پورے اسلامی کنبہ کی قیم کی ہے اس وجہ سے اسے کنبہ کے ایک ایک فرد کی اسی طرح فکر رکھنی پڑتی ہے جس طرح ایک کنبہ کا سردھرا اپنے بیوی بچوں کی رکھتا ہے۔ صدیق اکبر اور فاروق اعظم
اپنے اپنے دور خلافت میں اس حقیقت کو جس طرح ملحوط رکھا اس کو بیان کروں تو بات دوسرے گوشوں میں نکل جائے گی۔ اس زمانے میں عوام کے غم میں اسٹیجوں پر نوحہ خوانی کرنے والے تو بہت مل جائے گے لیکن کوئی نہیں جو حضرت عمر ؓ کی طرح یہ ذمہ داری محسوس کریں کہ میری مملکت کے بعید ترین گوشوں میں بھی اگر کوئی بھوکا سوتا ہے تو اس کی مسولیت مجھ پر ہے اور صرف محسوس ہی نہ کریں بلکہ عملاََ اپنے احساس کو ثابت بھی کردیں۔ یہاں تک کہ یہ احساس اس کو خود اپنے بیوی بچوں تک سے غافل کردے ! !
نماز رزق کی ضامن ہے اوپر والے ٹکرے میں اس دنیا کے رزق و فضل کا وعدہ تھا۔ یہ آخرت کی کامیابی کی بشارت ہے یعنی انجام کار کی کامیابی تو بہر حال اہل تقوی ہی کے لئے ہے، اس میں تو کسی اور کا کوئی حصّہ نہیں۔
یہاں ضاہر پرستوں کو یہ بات بہت عجب معلوم ہوگی کہ نماز بھلا آدمی کے رزق کی ضامن کس طرح ہوسکتی ہے اس میں شبہ نہیں کہ یہ حقیقت ان لوگوں کو نہیں سمجھائی جاسکتی جو نہ خود نماز کی روح سے آشنا ہیں اور نہ انہیں کسی حقیقی نماز آشنا سے آشنائی ہوئی۔ یہ چیز سمجھانے کی نہیں بلکہ جاننے اور سمجھنے کی ہے۔ صرف تجربہ ہی اس کا یقین پیدا کرسکتا ہے جو نماز کے لذت آشنا ہیں وہی جانتے ہیں کہ اس میں کیا ہے۔ میری اس بات کو ادعا پر محمول نہ فرمائیے۔ میں خود ایک بےعمل آدمی ہوں لیکن میں نے خود اپنی آنکھوں سے تاریخ کے صفحات میں بھی اور چلتے پھرتے انسانوں میں بھی ایسی پیشانیاں دیکھی ہیں جن کے سجدوں کے نشانات کی تابناکی آفتاب کو بھی شرماتی تھی اور جن کے استغفار کا یہ عالم تھا کہ سخت جمشید کو بھی پائے استقار سے ٹھکرا دینے والے تھے۔