تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 20. Taa-Haa · Ayah 2
مَاۤ اَنْزَلْنَا عَلَیْكَ الْقُرْاٰنَ لِتَشْقٰۤىۙ﴿2﴾
- مَآ اَنْزَلْنَاہم نے نازل نہیں کیا
- عَلَيْكَتم پر
- الْقُرْاٰنَقرآن
- لِتَشْقٰٓيتاکہ تم مشقت میں پڑجاؤ
Translation · Tadabbur-e-Quran
ہم نے تم پر قرآن اس لئے نہیں اتارا ہے کہ تم مصیبت میں پھنس جائو
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
ما انزلنا علیک القران لتشقی (2)
تبلیغ میں حضور ﷺ کی محنت مثاقہ اور آپ ﷺ کو دل نواز تسلی
یہ نہایت دل نواز اور پر محبت انداز میں اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو سمجھایا ہے کہ قرآن کی تبلیغ و دعوت سے متعلق آپ نے اپنے سر پر جو ذمہ داری اٹھائی ہے اور جو محنت مثاقہ اس کے لئے آپ جھیل رہے ہیں۔ اس کا مطالبہ ہرگز آپ سے نہیں ہے۔ آپ کی ذمہ داری صرف لوگوں تک اس کتاب کو پہنچا دینے کی ہے۔ جن کے اندر حق شناسی کی صلاحیت اور خشیت الٰہی کی کچھ رمق ہوگی وہ اس کو قبول کریں گے، جو ان صلاحیتوں سے عاری ہیں ان کے دلوں میں اس کو اتار دینا آپ کی ذمہ داری نہیں ہے کہ ان کے پیچھے آپ اپنی زندگی کو اجیرن بنا لیں۔
یہ بات ہم اس کتاب میں متعدد جگہ واضح کرچکے ہیں کہ رات دن دعوت کے کام میں لگے رہنے کے باوجود نبی ﷺ جب دیکھتے کہ لوگ اتنی واضح بات کو جھٹلا رہے ہیں اور کسی طرح ان کے دل نرم ہوتے نظر ہیں آتے تو آپ کو یہ پریشانی ہوتی کہ مبادا اس میں آپ ہی کی کسی کوتاہی کو دخل ہو۔ اس احساس سے دعوت کے کام میں آپ کی سرگرمیاں اور بڑھ جاتیں اور سارے جتن کر ڈالنے کے باوجود آپ کو کسی طرح تشفی نہ ہوتی۔ آپ کی اسی حالت پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ قرآن آپ ﷺ پر اس لئے اتارا گیا کہ آپ ﷺ کی زندگی اجیرن ہو کے رہ جائے۔ آپ کی جو ذمہ داری ہے وہ ادا کر دیجئے۔ دوسروں کے ایمان و اسلام کی ذمہ داری آپ پر نہیں ہے۔