Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 20. Taa-Haa · Ayah 3

  1. اِلَّا تَذْكِرَةً لِّمَنْ یَّخْشٰىۙ﴿3﴾

    1. اِلَّامگر
    2. تَذْكِرَةًیاد دہانی
    3. لِّمَنْاس کے لیے جو
    4. يَّخْشٰىڈرتا ہے
Translation · Tadabbur-e-Quran
یہ تو بس ان لوگوں کے لئے یاد دہانی ہے جو خدا سے ڈ ریں
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
الا تذکرۃ لمن یخشی (3) قرآن ایک تذکرہ ہے اس ٹکڑے سے قرآن کی حیثیت بھی واضح ہوگئی۔ پیغمبر ﷺ کی ذمہ داری کی حد بھی معین ہوگئی اور یہ بھی معلوم ہوگیا کہ کون لوگ اس سے اثر پذیر ہوں گے اور کون اس سے محروم رہیں گے۔ فرمایا کہ یہ تو بس ایک ’ تذکرہ ‘ ہے ’ تذکرہ ‘ کے معنی یاد دہانی کے ہیں۔ ظاہر ہے کہ یاد دہانی جس چیز کی کی جاتی ہے وہ خارج سے لائی ہوئی چیز کی نہیں کی جاتی بلکہ اس چیز کی کی جاتی ہے جو مخاطب کے خود اپنے پاس ہو لیکن وہ اس کو بھولا ہوا ہو۔ قرآن پر غور کیجئے تو اس کی اصلی نوعیت یہی ہے۔ وہ کوئی اوپری اور انوکھی چیز نہیں ہے۔ وہ کسی خارج سے لائی ہوئی چیز کو ہمارے اوپر نہیں لادتا بلکہ انہی حقائق کی یاد دہانی کرتا ہے جو خود ہماری فطرت کے اندر موجود ہیں لیکن ہم ان سے غافل ہیں۔ قرآن ان حقائق کی یاددہانی کے لئے جو دلائل استعمال کرتا ہے وہ بھی آفاق وانفس کے وہی دلائل ہیں جو ہمارے عقل کے خزانے میں موجود ہیں۔ لیکن ہم یا تو ان کو استعمال نہیں کرتے یا ان کے بدیہی نتائج کو قبول کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ عبرت و موعظت کے لئے قرآن نے جو تاریخ پیش کی ہے وہ بھی ان قوموں کی پیش کی ہے جو مخاطب گروہ کی جانی پہچانی ہوئی تھیں۔ جن انبیاء (علیہم السلام) کی تعلیمات کا حوالہ دیا ہے یہ بھی وہ انبیاء ہیں جن کی ذریت اور جن کے پیرو ہونے کے لوگ مدعی تھے۔ قرآن سے اثر پذیر ہونے کے لئے شرط اس یاد دہانی سے اثر پذیر ہونے والوں کی صفت ”لمن یخش“ بیان فرمائی۔ قرینہ دلیل ہے کہ یخشی کا مفعول یہاں مخدوف ہے۔ قرآن کے نظائہ کی روشنی میں اس مخدوف کو متعین کیجئے تو پوری بات یوں ہوگی کہ ”لمن یخشی ربہ بالغیب“ یعنی یاد دہانی ان لوگوں کے لئے ہے جو غیب میں رہتے اپنے رب سے ڈرتے ہیں۔ یہ دوسرے لفظوں میں وہی بات ارشاد ہوئی ہے جو بقرو کی دوسری ہی آیت میں ”ھدی للمتقین“ کے الفاظ میں بیان ہوئی ہے۔ وہاں ہم نے تفصیل سے واضح کیا ہے کہ یہ تقویٰ اور یہ خوف ان تمام لوگوں کے اندر موجود ہوتا ہے جن کی فطرت مسخ ہونے سے محفوظ ہوتی ہے۔ اس طرح کے لوگوں پر اگر غفلت ہوتی ہے تو وہ قرآن کی یاددہانی سے دیر سویر جاگ پڑتے ہیں۔ رہے وہ لوگ جو اپنی بداعمالیوں سے اپنی فطرت مسخ کرلیتے ہیں ان کو کتنا ہی جھنجھوڑیئے وہ کروٹ نہیں لیتے۔ ان کے اوپر گدھوں کی طرح ڈنڈے کی منطق کے سوا اور کوئی منطق کارگر نہیں ہوتی۔ وہ سب کچھ سر کی آنکھوں سے دیکھ کر ماننا چاہتے ہیں لیکن خدا کے ہاں ماننا صرف وہ معتبر ہے جو عقل و دل کی آنکھوں سے دیکھ کر مانا جائے نہ کہ سر کی آنکھوں سے۔ نبی مذکر ہوتا ہے نہ مصیطر قرآن کے تذکرہ ہونے سے یہ بات بھی نکلی کہ نبی ﷺ کی حیثیت ایک ”مذکر“ کی ہے نہ کہ ایک ”مصیطر“ کی۔ آپ کا فریضہ صرف یہ تھا کہ آپ لوگوں کو ان کا بھولا ہوا سبق یاد دلا دیں۔ لوگ اس سبق کو یاد کرتے ہیں یا نہیں، یہ لوگوں کی ذمہ داری تھی نہ کہ آپ کی۔ قرآن نے یہاں اسی حقیقت کو واضح کیا ہے کہ اگر آپ کی قوم کے لوگ آپ کی تذکیر سے فائدہ نہیں اٹھا رہے ہیں تو آپ پریشان نہ ہوں، اس کے لئے جو اب وہ عند اللہ وہ ہیں نہ کہ آپ۔