تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 20. Taa-Haa · Ayah 22
وَ اضْمُمْ یَدَكَ اِلٰى جَنَاحِكَ تَخْرُجْ بَیْضَآءَ مِنْ غَیْرِ سُوْٓءٍ اٰیَةً اُخْرٰىۙ﴿22﴾
- وَاور
- اضْمُمْملا (لگا)
- يَدَكَاپنا ہاتھ
- اِلٰىتک۔ سے
- جَنَاحِكَاپنی بغل
- تَخْرُجْوہ نکلے گا
- بَيْضَآءَسفید
- مِنْ غَيْرِ سُوْٓءٍبغیر کسی عیب
- اٰيَةًنشانی
- اُخْرٰىدوسری
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور اپنے ہاتھ کو اپنے بازو کی طرف سکیڑ لو، وہ وہاں سے ایک دوسری نشانی بن کر، چٹا سفید، بغیر کسی مرض کے، برآمد ہو گا
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
واضمم یدک الی جناحک تخرج بیضآء من غیر سوآء ایۃ اخری 22
یدبیضا کا معجزہ
ساتھ ہی دوسری ہدایت یہ ہوئی کہ اپنے ہاتھ کو اپنی بغل کی طرف سکیٹر لو، پھر جب تم اس کو بغل سے نکالو گے تو وہاں سے چٹا سفید، بغیر کسی مرض کے، ایک دوسری نشانی بن کر برآمد ہوگا۔
تورات کے ایک بیان کی تردید
یہ دوسرا معجزہ تھا جو حضرت موسیٰ کو عطا ہوا۔ یہاں بیضاء کے ساتھ من غیر سوء کی قید اس شبہ کے ازالہ کے لئے ہے کہ یہ ہاتھ کی سفیدی کسی مرض کے سبب سے نہیں ہوگی بلکہ اللہ کی ایک نشانی کے طور پر ہوگی۔ اس سے تورات کی اس روایت کی تردید ہوجاتی ہے کہ جب موسیٰ نے اپنا ہاتھ نکالا تو وہ برص سے سفید نکلا۔ یہ امر بھی یاد رکھیے کہ حضرت موسیٰ کے ہاتھ کی یہ سفیدی مستقل نہیں تھی بلکہ قرآن کے الفاظ شاہد ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے ظہور کو اس شرط کے ساتھ خاص کیا تھا کہ جب حضرت موسیٰ ایک نشانی کے طور پر دکھانے کے لئے اپنا ہاتھ اپنی بغل میں ڈال کر نکالیں گے تب یہ سفید نکلے گا۔ کسی مرض کا شبہ تو خدا نخواستہ اس حالت میں ہوتا ہے جب ہاتھ مستقلاً سفید ہوجاتا۔ لیکن ایسا ہوتا تو پھر معجزہ کیا ہوتا ؟
ایۃ اخری مستقل جملہ نہیں ہے بلکہ یہ دوسرا حال ہے۔ ایک حال تو یہ ہے کہ وہ بغیر کسی مرض کے چٹا سفید بن کر نکلے گا، دوسرا حال یہ ہے کہ وہ ایک دوسری نشانی بن کر نکلے گا، ہم نے ترجمہ میں اس کا لحاظ رکھا ہے۔