تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 20. Taa-Haa · Ayah 23
لِنُرِیَكَ مِنْ اٰیٰتِنَا الْكُبْرٰىۚ﴿23﴾
- لِنُرِيَكَتاکہ ہم تجھے دکھائیں
- مِنْسے
- اٰيٰتِنَااپنی نشانیاں
- الْكُبْرٰىبڑی
Translation · Tadabbur-e-Quran
تاکہ ہم اپنی بڑی نشانیوں میں سے بعض کا تمہیں مشاہدہ کرائیں
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
لنریک من ایتنا الکبری 23
یہ حضرت موسیٰ کے لئے مستقبل کی فتوحات کی بشارت ہے کہ بظاہر تو یہ دوہی معجزے ہیں لیکن یہ نہیں ہیں بلکہ ان کے اندر ہمارے بہت سے دوسرے بڑے بڑے معجزے بند ہیں۔ آگے جب امحتان کے مراحل آئیں گے تو تم دیکھو گے کہ ان سے ہماری قدرت و قہر مانیت کے کیا کیا کرشمے اور خوارق ظاہر ہوتے ہیں۔ چناچہ فرعون کے مقابل میں ان کے جو کرشمے ظاہر ہوئے ان کی تفصیلات تورات میں موجود ہیں۔ خود قرآن میں عطا کے جو کرشمے مذکور ہیں ان کی عظمت ظاہر ہے۔ اسی عصا نے ان کے لئے سمندر سے راہ نکالی اور اسی سے انہوں نے ایک پہاڑی سے اکٹھے بارہ چشمے جاری کر لئے۔
معجزات کے باب میں حضرت موسیٰ کے ساتھ خاص معاملہ کی وجہ
توحید اور آخرت اور نماز کی تعلیم و تاکید اور ان دو معجزات کے ساتھ حضرت موسیٰ کو حکم ہوا کہ وہ فرعون کے پاس فریضہ رسالت کی ادائیگی کے لئے جائیں اور اس کو خدا اور اس کے غضب سے ڈرائیں وہ بہت سرکش ہوگیا ہے۔ یہاں ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ معجزات کے باب میں معروف سنت الٰہی تو یہ رہی ہے کہ وہ حضرات انبیاء کو اس وقت دیئے گئے ہیں جب ان کی قوموں نے شدت کے ساتھ ان کا مطالبہ کیا ہے اور مقصود ان کے دیئے جانے سے صرف اتمام حجت رہا ہے کہ جو لوگ عقل و فکر سے کام نہیں لے رہے ہیں، کسی معجزے ہی کے لئے بضد ہیں ان کے اس حق سے انحراف کے لئے کوئی عذر باقی نہ رہ جائے۔ پھر حضرت موسیٰ کے ساتھ یہ خاص معاملہ کیوں ہوا کہ ان کو منصب نبوت پر مامور کرتے ہی دو معجزے دے دیئے گئے ؟ ہمارے نزدیک اس کی وجہ یہ ہے کہ حضرت موسیٰ ایک ایسے سرکش اور جابر حکمران کی طرف رسول بنا کر بھیجے جا رہے تھے جو شخصی اور قومی دونوں اعتبار سے حضرت موسیٰ کا جانی دشمن تھا۔ ان کی بات سننا اور سمجھناتو درکنار اندیشہ اس بات کا تھا کہ یہ علم ہوتے ہی کہ یہ حضرت موسیٰ ہیں فوراً ان کے قتل کا حکم دے دیتا۔ بلکہ ان کے قتل کا حکم تو اسی وقت وہ دے چکا تھا جب قبطی کے قتل کا واقعہ پشا آیا تھا لیکن حضرت موسیٰ چھپ کر مدین چلے گئے اس وجہ سے وہ اپنے ارادے میں ناکام رہا۔ ایک ایسے منتقم و جابر کے سامنے اگر حضرت موسیٰ ایک رسول کی حیثیت سے انذار کے لئے جاتے تو بھلا وہ ان کی بات سننے کا کب روادار ہوتا ! وہ تو صرف اسی شکل میں کوئی بات سننے کے لئے تیار ہوسکتا تھا جب حضرت موسیٰ کے ہاتھوں کوئی ایسی بات ظاہر ہوتی جو اس کو مرعوب کردیتی۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے شروع ہی میں ان کو دو ایسے عمجزوں سے مسلح کردیا جن کی مدد سے وہ اپنے دشمن کی ہر تعدی سے محفوظ رہے اور انہوں نے فرعون کے سامنے جاتے ہی، جساو کہ آگے کی آیات سے واضح ہوگا، اپنے ان معجزات کا اظہار بھی کردیا تاہ وہ خبردار رہے کہ اگر اس نے کوئی غلط اقدام کیا تو وہ بھی خالی ہاتھ نہیں آئے ہیں بلکہ ان کے ہاتھ میں بھی وہ عصا ہے جو ہر کبر و غرور کا سرپاش پاش کردینے کے لئے بالکل کافی ہے۔