تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 20. Taa-Haa · Ayah 25
قَالَ رَبِّ اشْرَحْ لِیْ صَدْرِیْۙ﴿25﴾
- قَالَاس نے کہا
- رَبِّاے میرے رب
- اشْرَحْکشادہ کردے
- لِيْمیرے لیے
- صَدْرِيْمیرا سینہ
Translation · Tadabbur-e-Quran
اس نے دعا کی کہ اے میرے رب ! میرے سینے کو میرے لئے کھول دے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
آیت 25-26
نبی اور دنیا پرست لیڈروں میں فرق
حضرت موسیٰ کے علم میں جو نیہ یہ بات آئی کہ ان پر فریضہ رسالت کی ذمہ داریاں ڈال دی گی ہیں اور اب انہیں فرعون کے پاس خدا کے رسول کی حیثیت سے انذار و تبلیغ کے لئے جانا ہے تو انہوں نے فوراً یہ دعا کی جو اوپر نقل ہوئی ہے۔ اس دعا کے لفظ لفظ سے اندازہ ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ نے اس بوجھ کو کتنا بھاری محسوس کیا ہے اور کس دل سوزی کے ساتھ اس بارگراں کی ذمہ داریاں ادا کرنے میں اللہ تعالیٰ سے مدد و رہنمائی کے لئے التجا کی ہے۔ دنیا پرست لیڈروں کا حال تو یہ ہوتا ہے کہ وہ لیڈری ہی کی ہوس میں جیتے اور اسی کے عشق میں مرتے ہیں لیکن حضرات انبیاء (علیہم السلام) کا سینہ اس ہوس سے بالکل پاک ہوتا ہے۔ ان کو اللہ تعالیٰ جب امامت کے منصب پر مامور فرماتا ہے تو وہ اس کی ذمہ داریوں کے تصور سے کا نپ اٹھتے ہیں اور خدا سے دعا کرتے ہیں کہ جب اس نے ان پر یہ بوجھ ڈالا ہے تو وہی اس کے اٹھانے کے لئے ہمت و قوت بخشے اور ہر قدم پر دستگیری و رہنمائی فرمائے۔
شرح صدر کی رہنمائی
قال رب اشرح لی صدری سب سے پہلے حضرت موسیٰ نے شرح صدر کے لئے دعا فرمائی اگر ذمہ داری بھاری ہو اور آدمی کو اس ذمہ داری کا کما حصہ احساس بھی ہو تو ہر حساس آدمی کا سینہ اس سے بھینچتا ہے یہ آدمی کی کمزوری کی دلیل نہیں بلکہ یہ اس کے حساس اور فرض شناس ہونے کی دلیل ہے۔ حضرات انبیاء نبوت کو مانگ کر نہیں پاتے بلکہ اس کی ذمہ داری، جیسا کہ ہم نے اوپر اشارہ کیا، ان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ڈالی جاتی ہے اس وجہ سے قدرتی طور پر وہ اپنے سینہ میں اضطراب و تردد محسوس کرتے ہیں کہ معلوم نہیں ہو کس حد تک اس ذمہ داری سے عہدہ برآ ہو پاتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ سنیہ کی یہ خلش اللہ تعالیٰ ہی کے فضل سے دور ہو سکتی ہے۔ وہی دل میں ہمت و عزیمت ڈالتا ہے اور وہی آگے کے مراحل کے لئے علم و یقین کی روشنی عطا فرماتا ہے تب سینہ کھلتا اور حوصلہ بلند ہوتا ہے۔ یہ حقیقت یہاں ملحوظ ہے کہ حضرات انبیاء پر بھی سارا علم و یقین ایک ہی دن میں اڈیل نہیں دیا جاتا بلکہ وہ بھی زاد و راحلہ اپنی منازل سفر کے اعتبار سے پاتے ہیں اور برابر رب زدنی علماً کا ورد رکھتے ہیں۔
مہم کی کامیابی کے لئے دعا
ویسرلی امری اندرونی خلش کے ازالہ کی دعا کے بعد یہ حالات کی مساعدت راہ کی ہمواری اور مہم کی کامیابی کے لئے دعا ہے کہ ہرچند یہ مہم بہت سخت ہے لیکن تو چاہے تو ہر مشکل کو آسان کرسکتا ہے تو اپنے فضل سے ہر مشکل کو آسان کر اور راہ کی ہر رکاوٹ کو دور کر۔
قوت اظہار وبیان عطا کئے جانے کی درخواست
واحلل عقدۃ من لسانی یفقھوا قولی یہ نہایت ادب و تواضح کے ساتھ، مقصد دعوت کے لئے قوت اظہار وبیان عطا کئے جانے کی خطابت و زبان آوری ہی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ اس زمانہ میں خطیبوں کو سوسائٹی میں سب سے زیادہ عزت حاصل تھی۔ عرب میں تو یہ حال تھا کہ جو شخص قبیلہ کا خطیب ہوتا وہی اس کا زعیم اور قائد ہوتا۔
جوہر خطابت کے بغیر اس دور میں کوئی شخص قیادت وامارات کی ذمہ داریاں کما حقہ ادا نہیں کرسکتا تھا۔ اب پریس کی ایجاد نیقلم کی اہمیت بہت بڑھا دی ہے بلکہ اب تو اصلی اہمیت پریس ہی کو حاصل ہے۔ آج اگر کوئی شخص کسی طرح پریس کی مدد حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائے تو وہ ڈیموستھنز سے بھی بڑا خطیب و زبان آور ہونے کا مدعی بن سکتا ہے اگرچہ وہ دو فقرے بھی صحیح بولنے پر قادر نہ ہو۔ لیکن پریس کی ایجاد سے پہلے خطابت اور زبان آوری کو بڑی اہمیت حاصل رہی ہے۔ بالخصوص جن کے اوپر عوام کی قیادت و امارت کی ذمہ داری ہو وہ تو اس قابلتط کے بغیر اپنی اس ذمہ داری سے عہدہ برآہو ہی نہیں سکتے تھے۔ قرآن مجید سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ زبان آور خطیب نہیں تھے۔ خطابت و زبان آوری ہرچند نبوت و رسالت کا لوازم میں سے نہیں ہے لیکن دعوت و تبلیغ کے اعتبار سے اس کی اہمیت، جیسا کہ ہم نے عرض کیا، بالخصوص اس دور میں بہت تھی، اس وجہ سے جب ان پر رسالت کی ذمہ داری ڈالی گی تو ان کو اپنی اس کمی کا احساس ہوا اور شرح صدر کی دعا کے ساتھ انہوں نے اظہار وبیان کی قوت بخشے جانے کی بھی دعا فرمائی کہ اے رب میری زبان کو قوت اور روانی عطا فرماتا کہ میں اپنی دعوت کو اس طرح پیش کرسکوں کہ لوگ میری بات کو سنیں اور سمجھیں۔
اپنی اس کمی کے احساس کی وجہ سے انہوں نے اپنے بڑے بھائی حضرت ہارون کو اپنا شریک کار بنائے جانے کے لئے دعا بھی کی۔ حضرت ہارون تورات اور قرآن مجید دونوں سے معلوم ہوتا ہے کہ نہایت زور دار خطیب تھے۔ حضرت موسیٰ کو بجا طور پر یہ توقع تھی کہ اگر ان کا تعان حاصل ہوگیا تو جس کمی کا وہ اپنے اندر احساس کر رہے ہیں اس کی تلافی ہوجائے گی۔ سورة قصص میں ان کی دعایوں مذکور ہے۔
(القص 34)
اور میرا بھائی ہارون مجھ سے زیادہ فصیح اللسان ہے تو اس کو ایک معاون کی حیثیت سے میرے ساتھ کیجیے کہ وہ میری تائید کرے۔ مجھے اندیشہ ہے کہ لوگ میری تکذیب کریں گے۔
اس آیت سے یہ بات صاف واضح ہے کہ اصل ضرورت جس کو حضرت موسیٰ ، مقصد دعوت کے لئے محسوس فرما رہے تھے ایک زور دار خطیب کی تھی۔ اس پہلو سے وہ اپنے اندر ایک کمی محسوس فرماتے تھے اور چاہتے تھے کہ اپنے سے زیادہ ایک فصیح البیان خطیب کی ان کو مدد حاصل ہوجائے تاکہ وہ زیادہ بہتر اور مئوثر طریقے پر لوگوں کے سامنے اپنی دعوت پیش کرسکیں۔
ویضیق صدری ولاینطلق بسانی فارسل الی مرون (13 شعرائ)
اور میرا سینہ بھنچتا ہے اور میری زبان رواں نہیں ہے تو ہارون کے پاس پیغام بھیج
کیا حضرت موسیٰ میں لکنت تھی ؟
ان آیات سے یہ بات ضرور معلوم ہوتی ہے کہ حضرت موسیٰ کوئی زبان آور اور زور دار خطیب نہیں تھے لیکن یہ بات کہیں سے نہیں نکلتی کہ ان کی زبان میں لکنت تھی۔ لکنت کی روایت صرف تورات میں ہے۔ ہویں سے ہماری تفسیر کی کاتبوں میں داخل ہوئی اور پھر اس کو مستند کرنے کے لئے ہمارے مفسرین نے ایک عجیب و غریب واقعہ بھی گھڑ لیا۔ تورات کی روایات کا جو حال ہے ان کا اندازہ اوپر آپ کو ہوچکا کہ حضرت موسیٰ کے یدبیضاء کو برص کا نتجیہ قرار دیا گیا ہے۔ جو لوگ اپنے نبی کو برص کا مریض قرار دے سکتے ہیں ان سے کیا بعید ہے اگر اس کے اندر لکنت کا عیب بھی نکال دیں !
بہرحال قرآن میں کوئی ایسی چیز نہیں جس سے لکنت کا ثبوت ملات ہو۔ واحلل عقدۃ من لسانی یفقھوا قرنی کے الفاظ میں بھی جس بات کی درخواست ہے وہ لکنت دور کرنے کی نہیں بلکہ، جیسا کہ ہم نے عرض کیا، اظہار وبیان کی وہ قابلیت و صلاحیت بخشے جانے کی درخواست ہے جو فریضہ نبوت و رسالت کی ادائیگی کے لئے ضروری تھی اور یہ درخواست نہایت متواضعانہ اسلوب و الفاظ میں ہے۔ حضرت موسیٰ نے یوں نہیں فرمایا کہ مجھے دلوں کو تسخیر کرنے والا ایک جادو بیان خطاب بنا دے بلکہ نہایت خاکسار انہ انداز میں فرمایا کہ میری زبان کو وہ روانی عطا فرما کہ لوگ میری بات سمجھیں یہ دعا کرنے کے لئے لکنت کا مریض ہونے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ ایک قادر الکلام بھی یہ دعا کرتا ہے اور اسے کرنی چاہئے۔ بسا اوقات معانی وحقائق کا جوش اس طرح سینہ میں امنڈتا ہے کہ ایک قادر الکلام آدمی بھی اپنی زبان اور پانے قلم کو اس کی تعبیر سے قاصر محسوس کرتا ہے۔ حضرت موسیٰ کو عام لیڈروں کی طرف صرف نعرہ نہیں لگانا تھا بلکہ دین کے حقائق و اسرار کی تفہی کرنی تھی اور وہ بھی ایسے لوگوں کے سامنے جو نہ صرف ان کی تکذیب پر ادھار کھانے بیٹھے تھے بلکہ ان کی جان کے دشمن تھے۔ پھر یہ بات بھی تھی کہ حضرت موسیٰ کو صرف چھدا اتارنے کی خواہش نہیں تھی بلکہ وہ اپنے مخالفوں کے دل میں اتر جانے کا ارمان رکھتے تھے۔ مخالفوں سے تو یہ امید نہ تھی کہ ان کے دل اور ہوجائیں گے اس لئے انہوں نے اپنے رب سے زبان ہی اور مانگی تاکہ ان کو اپنی بات سمجھا سکیں۔
الغرض ہمارے نزدیک یہ لکنت کی روایت ناقابل اعتبار ہے۔ قطع نظر اس سے کہ حضرت انبیاء کو اللہ تعالیٰ جس طرح اخلاقی عیوب سے محفوظ رکھتا ہے اسی طرح خلقی نقائص سے بھی محفوظ رکھتا ہے، سب سے زیادہ اہمیت رکھنے والی بات یہ ہے کہ قرآن میں اس روایت کی تائید کرنے والی کوئی چیز نہیں ہے۔ فرعون کا طعنہ جو سورة زخرف میں لایکادیبین کے الفاظ سے نقل ہوا ہے اس پر انشاء اللہ ہم اس کے محل میں بحث کریں گے۔
فاجعل لی وزیراً من اھلی ھرون اخی
حضرت ہارون کو شریک کار بنانے کی دعا کی وجہ
اوپر سورة قصص اور سورة شعراء کی جن آیتوں کا حوالہ گزرا ہے اس سے یہ بات واضح ہے کہ ایک مددگار اور شریک کار کی ضرورت خاص طور پر حضرت موسیٰ نے اپنی قوت بیان کی کمی کے پہلو سے فرمائی تھی اور اس کمی کی تلافی کے لئے وہ اپنے بھائی حضرت ہارون کو نہایت موزوں آدمی سمجھتی تھے، وہ انے کے بڑے بھائی بھی تھے، ان کے خالق و کردار پر بھی حضرت موسیٰ کو بھروسا تھا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ان کی فصاحت بیان کی، جیسا کہ تورات سے وضح ہے، قوم میں بڑی شہرت تھی۔ ان تمامصفات سے متصف آدمی جب، اپنے ہی گھر اور خاندان میں موجود ہو تو سب سے زیادہ وہی اس بات کا حق دار ہوسکتا تھا کہ اس کے شریک کار بنائے جانے کے لئے حضرت موسیٰ درخواست کریں۔ من اھلی کے لفظ سے کسی کو یہ غلط فہمی نہ ہو کہ اس انتخاب میں کسی خاندانی عصبیت کو دخل تھا۔ خاندانی عصبیت کا شبہ تو اس صورت میں ہوتا جب مجرد خاندان وجہ ترجیح بنتا لیکن جب وجہ انتخاب صفات ہیں تو نہ صرف یہ کہ اس شبہ کے لئے کوئی گنجائش نہیں ہے بلکہ اس سے یہ رہنمائی ملتی ہے کہ آدمی اللہ تعالیٰ سے جب کسی فضل و رحمت کے لئے دعا کرے تو اس میں سب سے پہلے اپنے اہل و عیال کو شریک کرے بشرطیکہ وہ اہل و صالح ہوں۔ بقرہ کی تفسیر میں حضرت ابراہیم کی دعا پر ایک نظر ڈال لیجیے۔
حضرت ہارون کی حیثیت
اشد دبہ اندی واشر کہ فی امری اذر پیٹھ اور کمر کو کہتے ہیں یعنی ہارون کو میرا وزیر اور شریک کار بنا کر میری کمر کو مضبوط کر تاکہ میں اس باگراں کو حسن و خوبی کے ساتھ اٹھا سکوں واشر کہ فی امری سے یہ بات بھی نکلتی ہے کہ حضرت موسیٰ کی درخواست اس بات کے لئے تھی کہ حضرت ہارون کی مدد صرف ایک صحابی اور ساتھی کی حیثیت سے نہیں بلکہ شریک نبوت کی حیثیت سے حاصل ہو۔ یعنی وہ بھی فرائض نبوت سے متعلق عند اللہ مسئول و ذمہ دار ہوں اور انہیں بھی براہ رات اللہ کی طرف سے رہنمائی اور عصمت حاص لہو۔ یہ درخواست ایک بڑی اہم درخواست تھی اس لئے کہ حضرات انبیاء میں سے، جیسا کہ سورة مریم کی آیت 53 کے تحت ہم ذکر کرچکے ہیں کسی نبی کے متعلق یہ بات معلوم نہیں کہ ایک دوسرانبی کا وزیر بنایا گیا ہو، لیکن اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کو یہ شرف بخشا اور ان کی یہ درخواست منظور فرمائی۔ دنیا دار لیڈروں میں تو چھوٹے چھوٹے عہدوں کے لئے بھی رشک و رقابت کا وہ جذبہ ہوتا ہے کہ وہ کسی دوسرے کو اپنے اختیارات کے قریب پھٹکنے دینے کے رودار نہیں ہوتے لیکن جہاں امانت اور ذمہ داری کا صحیح احساس ہو تو ایک نبی اپنی نبوت کے منصب عظیم میں بھی دوسرے کو شریک کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہے۔
یہاں یہ بات نوٹ رکھیے کہ تورات میں حضرت ہارون کا ذکر اس حیثیت سے نہیں آیا ہے جس حیثیت سے قرآن میں آیا ہے۔ تورات میں ان کا ذکر بس حضرت موسیٰ کے ایک ساتھی اور ترجمان کی حیثیت سے آیا ہے اور وہ بھی ایک ایسی ساتھی کی حیثیت سے کہ سامری کی فتنہ انگیزیاں بھی انہی کے کھاتے میں ڈال دی گی ہیں۔ یہ قرآن کا فیض ہے کہ اس نے ان شخصیتوں کی اصلی حیثیت سے اجاگر کی ہے۔
ذکر کا مفہکم
کی نسبح کثیراً ونذکرک کثیراً (34-33) یعنی ہارون کو شریک کار بنائے جاین کی درخواست اس لئے ہے کہ ہم دونوں مل کر تیری زیادہ سے زیادہ تسبیح اور تیرا زیادہ سے زیادہ ذکر کرسکیں۔ ظاہر ہے کہ یہاں انفردای ذکر و تسبیح ہی مردا نہیں ہے بلکہ اجتماعی ذکر و تسبیح بھی مراد ہے اور یہ تعبیر ہے فریضہ نبوت کی ادائیگی کی۔ نبی اور انیباء کے طریقہ پر کام کرنے والوں کی خلوت و جلوت دونوں ذکر و تسبیح ہوتی ہے۔ وہ مسجد میں جو کام کرتے ہیں وہ بھی ذکر و تسبیح ہے اور بازار میں جو کام کرتے ہیں وہ بھی ذکر و تسبیح ہے۔ ان کی رزم و بزم دونوں میں فرق عمل کا نہیں بلکہ صرف میدان عمل کا ہوتا ہے۔ اس سورة کی آیت 14 میں آپ نے پڑھا ہے کہ اقم الصلوۃ لذکری (میرے ذکر کے لئے نماز کا اہتمام رکھنا) اور پھر اسی سورة کی آیت 44 میں حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون دونوں حضرات کو فرعون کے دربار میں جانے اور ساتھ ہی اس بات کی ہدایت ہوتی ہے کہ ولا تنبا فی ذکری اور میرے ذکر میں ڈھیلے نہ پڑ نام ظاہر ہے کہ اس ذکر سے مراد وہ انذار و تبلیغ ہی ہے جس کے لئے وہ فرعون کے پاس بھیجے جا رہے تھے۔
تسبیح اور ذکر میں ایک نازک فرق
تسبیح اور ذکر دونوں لفظوں کے ایک ساتھ ذکر کرنے میں ایک ادبی پہلو بھی محلوظ ہے، وہ بھی نگاہ میں رہے۔ تسبیح میں تنزیہہ کا پہلو غالب ہے اور ذکر میں اثبات کا اور یہ نفی و اثبات دونوں خدا کے ساتھ صحیح تعلق کو استوار میں رکھنے کے لئے ضروری ہیں۔ جو چیزیں خدا کی شان، اس کی صفات اور اس کی مرضیات و احکام کے منافی ہیں ان کی نفی کی جائے اور جو چیزیں اس کی شان، اس کی صفات اور اس کے احکام کے موافق ہیں ان کا اثبات و اظہار کیا جائے۔ ان دونوں چیزوں سے مل کر مومن کا عقیدہ اور کردار بنتا ہے اور نفی اثبات پر مقدم ہے۔ جب تک آپ ماسوی اللہ سے بغاوت کا اعلان نہیں کرتے اس وقت تک آپ اللہ کے وفادار نہیں ہو سکتے۔ الا اللہ سے پہلے لا الہ کا اعلان ضروری ہے۔
دعا کے حق میں ایک سفارش
انک کنت بنا بصیراً یہ اپنی اس دعا کے حق میں اسی طرح کی سفارش ہے جس طرح کی سفارش حضرت زکریا نے اپنی دعا کے حق میں ماکنتبدعآئک رب شقیاً کے الفاظ سے پیش کی ہے۔ سورة مریم کی تفسیر میں اس کی وضاحت ہم کرچکے ہیں۔ خدا کی بارگاہ میں آدمی کے لئے بہترین سفارش اس کا اپنا عمل نہیں ہے بلکہ خود خدا ہی کے فضل و کرم کا وساطہ ہے۔ جب بندہ اس اعتماد پر اپنے رب سے مانگتا ہے کہ جس نے بن مانگے سب کچھ بخشا ہے وہ بھلا مانگنے پر کس طرح محروم فرمائے گا تو رب کریم اپنے بندے کو محروم نہیں رکھتا۔ حضرت موسیٰ نے بھی اپنے اور اپنے بھائی کے ساتھ اپنے رب کے اسی معاملے کا حالہ دیا ہے کہ جب تو ہمیشہ ہمار نگران حال رہا ہے تو اب جب کہ ہم تیرے ہی نام کی خاطر اٹھ رہے ہیں بھلا تیرے فضل و کرم سے کیوں محروم رہیں گے !
درخواست منظور
قال قد اوتیت سولک یموسی سول اور سوال کے ایک ہی معنی ہیں۔ یعنی درخواست اور التجا ارشاد ہوا کہ موسیٰ ! تمہاری درخواست منظور ہوئی۔ یہاں موسیٰ کے خطاب میں بھی بڑا پیار ہے اور منظوری کے الفاظ میں بھی بڑی شان جھلک رہی ہے۔ دعا کے الفاظ ختم ہوتے ہی بشارت سنا دی گی کہ تمہاری عرضی منظور ! گویا بیک بخبش قلم بلا کسی توقف اور بلا کسی استثناء کے سب منظور ! ظاہر ہے کہ اس منظوری میں ان کی وہ درخواست بھی شامل ہے جو انہوں نے اظہار وبیان کی قوت بخشے جانے کے لئے کی۔ وہ بھی ان کو عطا ہوئی اور حضرت ہارون ان کے وزیر بھی بنا دیئے گئے۔ دعا اگر صحیح مقصد کے لئے، صبح وقت پر، سچے جذبے کے ساتھ کی جائے تو وہ خدا کی بارگاہ سے اسی طرح شرف قبولیت پاتی ہے !