Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 20. Taa-Haa · Ayah 24

  1. اِذْهَبْ اِلٰى فِرْعَوْنَ اِنَّهٗ طَغٰى۠ع﴿24﴾

    1. اِذْهَبْتو جا
    2. اِلٰىطرف
    3. فِرْعَوْنَفرعون
    4. اِنَّهٗبیشک وہ
    5. طَغٰيسرکش ہوگیا
Translation · Tadabbur-e-Quran
تم فرعون کے پاس جائو۔ وہ بہت سرکش ہوگیا ہے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
اذھب الی فرعون انہ طغی 24 فرعون کا طغیان یہ وہ پہلی مہم ہے جس پر حضرت موسیٰ مامور فرمائے گئے۔ حکم ہوا کہ فرعون کے پاس جائو وہ بہت سرکش ہوگیا ہے۔ فرعون کی سرکشی کی تفصیل سورة اعراف کی تفسیر میں گزر چکی ہے۔ وہ اپنے زعم میں خودب رب اعلیٰ تھا اور مصریوں کے سب سے بڑے دیوتا، سورج کا مظہر سمجھا جاتا تھا۔ اس کے اسٹیچو اور بت سارے مصر میں پوجے جاتے تھے۔ خدا کے بندوں ج کے ساتھ اس کا جو معاملہ تھا اس کا اندازہ کرنے کے لئے صرف یہی بات کافی ہے کہ اس نے اپنی ساری مملکت میں یہ حکم جاری کر رکھا تھا کہ بنی اسرائیل کے ہاں جتنے بیٹے پیدا ہوں وہ قتل کردیئے جائیں یا دریا میں پھینک دیئے جائیں صرف لڑکیاں لونڈیوں کی خدمت انجام دینے کے لئے زندہ رکھی جائیں۔ جس کا رویہ خالق اور خلق کے ساتھ یہ ہوا اس کے طغیان میں کلام کی گنجائش کہاں رہی ! حضرت موسیٰ چونکہ اس طغیان سے اچھی طرح باخبر تھے بلکہ وہ خود اس کے ستم زدہ تھے اس وجہ سے یہاں اللہ تعالیٰ نے اس کی تفصیل نہیں فرمائی بلکہ صرف اشارہ کر کے چھوڑ دیا۔ انبیاء کی دعوت اور عوامی تحریکات میں ایک اصولی فرق یہاں وہ بات بھی نگاہ میں رکھیے جس کی طرف ہم ایک سے زیادہ مقامات میں اشارہ کرچکے ہیں کہ حضرات انبیاء (علیہم السلام) اپنے انذار اور اپنی دعوت کا مخاطب سب سے پہلے اپنی قوم اور سوسائٹی کے اعیان و اکابر کو بناتے ہیں اس لئے کہ سوسائٹی کا نظام انہی کی قیادت میں چل رہا ہوتا ہے۔ اگر وہ کسی اصلاح کو قبول کرلیں تو ساری سوسائٹی بہت جلد اصلاح قبول کرلیتی ہے اور دعوت کی عقلیت و برتری کا رعب سب پر چھا جاتا ہے اور اگر وہ ضد و مکابرت کی وجہ سے حق کو جھٹلاتے ہیں تو یہ چیز بھی دعوت کے حق میں ایک پہلو سے مفید ہی ہوتی ہے اس لئے کہ ان کے پیرو وں پر اپنے لیڈروں کی منطق کا کھوکھلا پن واضح ہوجاتا ہے اور پھر اگر وہ حق قبول کرتے ہیں تو پورے شعور اور کامل بصیرت کے ساتھ قبول کرتے ہیں اور یہ بصیرت ان کے اندر وہ قوت تسخیر پیدا کردیتی ہے کہ کل تک اگر وہ دریا کے کنارے کے ماہی گیروں کی طرح صرف مچھلیوں کے پکڑنے والے تھے تو اس انقلاب حال کے بعد آدمیوں کے پکڑنے والے بن جاتے ہیں۔ اس کے برعکس جو تحریکیں عوامی پر اپیگنڈے سے اپنے کام کا آغاز کرتی ہیں ان کا سارا اعتماد عوام کو بھڑکانے والے جذباتی نعروں پر ہوتا ہے۔ انہی کے بل پر وہ چلتی ہیں اور جب تک قائم رہتی ہیں انہی کے بل پر قائم رہتی ہیں۔ ان کے اندر نہ عقل کا کوئی حصہ وتا ہے نہ ہوسکتا ہے۔ جذبات کے ایک مئوثر عامل ہونے سے تو انکار نہیں کیا جاسکتا لیکن اگر انہی کے ہاتھ میں زندگی کی باگ دے دی جائے تو پھر زندگی کا انجام معلوم ہے !