Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 20. Taa-Haa · Ayah 5

  1. اَلرَّحْمٰنُ عَلَى الْعَرْشِ اسْتَوٰى﴿5﴾

    1. اَلرَّحْمَنُرحمن
    2. عَلَي الْعَرْشِعرش پر
    3. اسْتَوٰىقائم
Translation · Tadabbur-e-Quran
جو رحمان عرش حکومت پر متمکن ہے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
الرحمن علی العرش استوی۔ لہ ما فی السموت و ما فی الارض وما بینھما و ما تحت الثری (5۔ 6) قرآن کی عظمت کا بیان اور یہ خدا کی جن صفات کا مطہر ہے ان کا حوالہ یہ قرآن کی عظمت کا بیان بھی ہے اور اللہ تعالیٰ کی جن صفات کا یہ مظہر ہے ان کی طرف اشارہ بھی۔ فرمایا کہ وہ خالق ارض و سماء رحمان ہے۔ اس کی رحمانیت کا تقاضا ہے کہ وہ خلق کو پیدا کر کے یوں ہی چھوڑ نہ دے بلکہ جس طرح اس نے اس کی مادی زندگی کے اسباب و وسائل مہاک فرمائے اسی طرح اس کی ہدایت کا سامان بھی کرے، چناچہ اس نے انسان کی رہنمائی کے لئے اس کو عقل و نطق سے نوازا اور اس پر مزید فضل یہ فرمایا کہ اس کی ہدایت کے لئے اپنی کتاب اتاری۔ اسی حقیقت کی طرف سورة رحمن میں الرحمن و علم القران کے الفاظ سے اشارہ فرمایا۔ مطلب یہ ہے کہ آج جو لوگ قرآن کو رد کر رہے ہیں وہ نہ تو خدا کا کچھ بگاڑ رہے ہیں نہ اس کے رسول کا بلکہ خود اپنے آپ کو خدا کی سب سے بڑی رحمت سے محروم کر رہے ہیں۔ ”علی العرش استوی“ یہ خدائے رحمان کی صفت بیان ہوئی ہے کہ وہ دنیا کو پیدا کر کے الگ تھلگ کسی گوشتے میں نہیں جا بیٹھا ہے بلکہ بالفعل اپنی کائنات کے عرش حکومت پر متمکن ہے۔ اس کائنات کا حقیقی فرمانروا وہی ہے اس وجہ سے لوگوں کو قرآن کے ذریعہ سے اس نے اپنے احکام و قوانین سے آگاہ کردیا ہے۔ اس آگاہی کے بعد جو لوگ اپنی من مانی کریں گے وہ حساب کے دن اپنا انجام خود دیکھ لیں گے۔ ”لہ ما فی السموت وما فی الارض و ما بینھما وما تحت الثری“ یہ شرکت کے ہر جرثومہ کی جڑ کاٹ دی۔ فرمایا کہ آسمان و زمین اور جو کچھ ان کے درمیان اور جو کچھ زیر زمین ہے سب کا خالق ومالک وہی ہے۔ سب کو خلق بھی اسی نے کیا ہے اور سب پر اختیار بھی اسی کا ہے۔ اس کائنات کا کوئی گوشہ ایسا نہیں ہے جو اس کی خدائی سے باہر ہو۔ جس کو کسی خاص دائرے میں کوئی آزادی ملی بھی ہے وہ بھی اس کے امر و حکم کے تحت ہے۔ اس وجہ سے کوئی یہ گمان نہ کرے کہ وہ خدا سے کہیں بھاگ سکتا ہے یا کوئی دوسرا اس کو پناہ دے سکتا ہے۔