تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 20. Taa-Haa · Ayah 4
تَنْزِیْلًا مِّمَّنْ خَلَقَ الْاَرْضَ وَ السَّمٰوٰتِ الْعُلٰىؕ﴿4﴾
- تَنْزِيْلًانازل کیا ہوا
- مِّمَّنْسے۔ جس
- خَلَقَبنایا
- الْاَرْضَزمین
- وَالسَّمٰوٰتِاور آسمان (جمع)
- الْعُلٰىاونچے
Translation · Tadabbur-e-Quran
یہ نہایت اہتمام کے ساتھ اس ذات کی طرف سے اتارا گیا ہے جس نے زمین اور بلند آسمانوں کو پیدا کیا ہے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
تنزیلا ممن خلق الارض و السموت العلی (3)
”تنزیل“ کا مفہوم
”تنزیل“ کے معنی دوسرے مقام میں ہم واضح کرچکے ہیں کہ کسی چیز کو نہایت اہتمام اور ترتیب و تدریج کے ساتھ اتارنے کے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ یہ قرآن چونکہ لوگوں کی یاددہانی کے لئے اترا ہے اس وجہ سے اللہ نے صرف اتنے پر اکتفا نہیں فرمایا کہ کسی نہ کسی طرح بات ایک مرتبہ لوگوں تک پہنچ جائے بلکہ نہایت اہتمام اور تدریج اور وقفہ وقفہ کے ساتھ اس کو اتارا تاکہ لوگوں کے لئے یہ عذر باقی نہ رہے کہ بات کے سنانے یا سمجھانے میں کوئی کسر رہ گئی۔
قرآن کسی سائل کی درخواست نہیں بلکہ خالق کا فرمان ہے
”من خلق الارض و السموت العلی“ یہ قرآن کی عظمت واضح فرمائی کہ یہ زمین اور بلند آسمانوں کے خالق ومالک کی طرف سے اتارا گیا ہے۔ نہ یہ کوئی ہوائی بات ہے کہ یوں ہی ہوا میں اڑ جائے نہ یہ کسی سائل کی درخواست ہے کہ لوگوں نے قبول کرلی تو سائل پر ان کا کرم ہوگا، نہ قبول کی تو سائل محروم ہو کر رہ جائے گا۔ بلکہ یہ خالق ارض و سماء کا فرمان واجب الاذعان ہے اگر لوگوں نے اس کو رد کیا تو اچھی طرح سوچ لیں کہ اس کے نتائج کیا کچھ ہو سکتے ہیں۔
اس میں نبی ﷺ کے لئے یہ اشارہ بھی ہے کہ اس کو اسی طرح لوگوں کے سامنے پیش کیجئے جس طرح آسمان و زمین کے خالق ومالک کا کلام پیش کیا جانا چاہئے۔ اس کے لئے نہ زیادہ استمالت کی ضرورت ہے، نہ کسی الحاح و اصرار کی۔ اس کے قبول کرنے میں لوگوں کا اپنا نفع ہے نہ کہ خدا کا۔ یہ کوئی ملتجیانہ درخواست نہیں ہے بلکہ خلق کے لئے صحیفہ ہدایت ہے اس کو رد کرنے والے خود اپنی شامت بلائیں گے۔ آپ کا کچھ نہیں بگاڑیں گے۔
یہ مضمون مختلف اسلوبوں سے قرآن مجید میں جگہ جگہ بیان ہوا ہے۔ سورة عبس میں یہی حقیقت یوں واضح کی گئی ہے۔ کلا انھا تذکرۃ، فمن شاء ذکرہ و فی صحف مکرمۃ و مرفوعۃ مطھرۃ بایدی سفرۃ کرام مبدۃ۔ (11۔ 16)
ہرگز نہیں ! یہ تو ایک یاد دہانی ہے تو جو چاہے اس سے فائدہ اٹھائے۔ یہ معزز بلند اور پاکیزہ صحیفوں میں ہے۔ باعزت اور باوفا کاتبوں کے ہاتھ میں۔