Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 20. Taa-Haa · Ayah 52

  1. قَالَ عِلْمُهَا عِنْدَ رَبِّیْ فِیْ كِتٰبٍ١ۚ لَا یَضِلُّ رَبِّیْ وَ لَا یَنْسَى٘﴿52﴾

    1. قَالَاس نے کہا
    2. عِلْمُهَااس کا علم
    3. عِنْدَپاس
    4. رَبِّيْمیرا رب
    5. فِيْ كِتٰبٍکتاب میں
    6. لَا يَضِلُّوہ نہ غلطی کرتا ہے
    7. رَبِّيْمیرا رب
    8. وَاور
    9. لَا يَنْسَىنہ وہ بھولتا ہے
Translation · Tadabbur-e-Quran
اس نے جواب دیا کہ ان کا علم میرے رب کے پاس ایک رجسٹر میں ہے۔ نہ میرا رب بھٹکتا ہے نہ بھولتا ہے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
پروقار جواب اور تذکیر فرعون کا سوال اگرچہ غیر متعلق بھی تھا اور تحقیر آمیز بھی لیکن حضرت موسیٰ نے نہ صرف جاب پروقار و سنجیدہ دیا بلکہ تذکیر و تنبیہ کا ایک اور نہایت پر حکمت درس بھی اس کو سنا دیا۔ فرمایا کہ ان قوموں کا سارا ریکارڈ میرے رب کے پاس ایک عظیم دفتر میں محفوظ ہے۔ قرینہ دلیل ہے کہ لفظ کتاب کی تنکیر یہاں تضخیم شان پر دلیل ہے یعنی کوئی یہ نہ سمجھے کہ یہ کوئی ایسی دیسی کتاب ہے بلکہ اس میں ایک ایک جزئیہ قلمبند ہے۔ جب یہ کھلے گی تو سب پکار اٹھیں گے کہ مالھذا الکتب لایفادر صغیرۃ ولاکبیوۃ الا احصھا (عیبل ہے یہ کتاب کہ کوئی چھوٹی یا بڑی بات ایسین ہیں رہ گئی ہے جس کو اس نے محفوظ نہ کرلیا ہو۔) لایضل ربی ولا ینسی یعنی میرے رب کا علم خطا اور نساین سے بالکل پاک ہے نہ وہ کوئی غلطی کرتا ہے نہ کسی چیز کو بھولتا ہے۔ نہ یہ ممکن ہے کہ کوئی چیز اس کے علم میں آنے سے رہ جائے یا آئے تو غلط شکل میں آئے اور نہ یہ ممکن ہے کہ وہ علم میں آئی ہوئی کسی چیز کو بھول جائے۔ غور کیجیے، حضرت موسیٰ اس غیر متعلق اور طنزیہ سوال کا یہ جواب بھی دے سکتے تھے کہ مجھ سے کوئی فضول سوال نہ کرو۔ میں خدا کا رسول بن کر آیا ہوں، میں نے غیب دانی کا دعویٰ نہیں کیا ہے اور نہ یہ کہا ہے کہ تمام پچھلی قوموں کا ریکارڈ میرے پاس ہے لیکن انہوں نے یہ جواب دینے کے بجائے نہایت بلیغ انداز میں اس کو یہ تنبیہ کی کہ ہرچند میں تو سارے غیب کا عالم نہیں لیکن میرا رب ہر چیز کا علم رکھتا ہے اور اس کا علم ہر خطا و نسیان سے پاک ہے۔ اس کے پاس سارا ریکارڈ محفوظ ہے۔ جو قومیں صفحہ ارض سے مٹ چکی ہیں ان کی نسبت بھی کوئی اس غلط فہمی میں نہ رہے کہ اب وہ افسانہ ماضی ہوچکی ہیں بلکہ سب کے نامہ اعمال خدا کے لئے خطا رجسٹر میں مرقوم ہیں۔ ظاہر ہے کہ جب ایک ایک چیز محفوظ ہے تو یہ صرف محفوظ رکھنے کے لئے تو محفوظ نہیں ہے بلکہ حساب و کتاب اور جزا و سزا کے لئے محفوظ ہے۔ یہ بات چونکہ بالکل ظاہر تھی اس وجہ سے حضرت موسیٰ نے اس کا اظہار نہیں فرمایا لیکن ان کا انداز کلام خود اس کو نہایت خوبی کے ساتھ ظاہر کر رہا ہے۔ بعض مواقع میں کنایہ جتنا مئوثر ہوتا ہے صراحت اتنی مئوثر نہیں ہوتی۔