Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 20. Taa-Haa · Ayah 57

  1. قَالَ اَجِئْتَنَا لِتُخْرِجَنَا مِنْ اَرْضِنَا بِسِحْرِكَ یٰمُوْسٰى﴿57﴾

    1. قَالَاس نے کہا
    2. اَجِئْتَنَاکیا تو آیا ہے ہمارے پاس
    3. لِتُخْرِجَنَاکہ تو نکالدے ہمیں
    4. مِنْ اَرْضِنَاہماری زمین سے
    5. بِسِحْرِكَاپنے جادو کے ذریعہ
    6. يٰمُوْسٰىاے موسیٰ
Translation · Tadabbur-e-Quran
اس نے کہا، موسیٰ ! کیا تم اس لئے ہمارے پاس آئے ہو کہ اپنے جادو کے زور سے ہم کو ہمارے ملک سے بےدخل کر دو
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
آیت 57 فرعون کی ایک سیاسی چال سورة اعراف کی تفسیر میں ہم وضاحت سے بیان کرچکے ہیں کہ اس دور میں فرعون اور اس کے ارکان حکومت کو بنی اسرائیل سے سب سے بڑا خطرہ یہ تھا کہ ان کی تعداد برابر بڑھ رہی ہے۔ ایسا نہ ہو کہ یہ طاقتور ہو کہ بیرونی دشمنوں کے آلہ کار بن جائیں اور ایک دن فرعون اور اس کی قوم کو ملک سے بےدخل کردیں۔ اسی خطرے کو پیش نظر رکھ کر اسرائیلی بچوں کے قتل کی مہم چلائی گئی لیکن یہ مہم ناکام رہی۔ بنی اسرائیل کی تعداد بڑھتی ہی گئی البتہ بنی اسرائیل کے اندر اس وقت تک کوئی ایسا لیڈر نہیں تھا جو ان کو منظم کرسکے۔ حضرت موسیٰ سے فرعون کو جیسا کہ ہم پیچھے عرض کرچکے ہیں، ان کے مدین جانے سے پہلے بھی خطرہ تھا کہ وہ اپنی قوم کو بیدار کر رہے ہیں وہ بنی اسرائیل کے مظلوموں کی حمایت و مدافعت میں ہمیشہ سینہ سپر ہوجاتے تھے۔ چناچہ اسی جرم میں ان کی داخلہ بھی شہر میں بند تھا اور بالآخر ای کقبطی کے قتل کے سبب سے انہیں مدین چلے جانا پڑا۔ اب جب وہ آئے اور اس شان کے ساتھ آئے کہ انہوں نے فرعوکن کے سامنے چند نہایت اہم مطالبات بھی نہایت دبدبہ کے ساتھ رکھ دیئے تو اس نے تاڑ لیا کہ اس کو جو خطرہ تھا اب وہ ایک حقیقت کی شکل میں سامنے آگیا ہے۔ چناچہ اس نے حضرت موسیٰ سے کہا کہ اے موسیٰ کیا تم اس لئے ہمارے پاس آئے ہو کہ اپنے اس جادو کے زور سے ہمیں ہمارے ملک سے بےدخل کردو ! …… فرعون ایک نہایت گھاگ سیاسی تھا۔ اس نے ایک تو حضرت موسیٰ کی اس دعوت کو ایک سیاسی خطرہ کا رنگ دے کر اپنی قوم کو مشتعل کرنے کی کوشش کی، دوسرے ان کے معجزات کو سحر سے تعبیر کر کے اس اثر کو مٹانے کی کوشش کی جو لوگوں پر ان کا پڑا ہو اگا۔