Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 20. Taa-Haa · Ayah 59

  1. قَالَ مَوْعِدُكُمْ یَوْمُ الزِّیْنَةِ وَ اَنْ یُّحْشَرَ النَّاسُ ضُحًى﴿59﴾

    1. قَالَاس نے کہا
    2. مَوْعِدُكُمْتمہارا وعدہ
    3. يَوْمُ الزِّيْنَةِزینت (میلے) کا دن
    4. وَاَنْاور یہ کہ
    5. يُّحْشَرَجمع کیے جائیں
    6. النَّاسُلوگ
    7. ضُحًيدن چڑھے
Translation · Tadabbur-e-Quran
اس نے کہا، تمہارے لئے وعدے کا دن میلہ والا دن ہے اور یہ کہ لوگ بوقت چاشت جمع کئے جائیں
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
آیت 59 فرعون کے چیلنج کا جواب حضرت موسیٰ کو چونکہ اپنی کامیابی کا پورا یقین تھا اس وجہ سے انہوں نے بےدھڑک فرعون کا چیلنج مظنور کر لای۔ مصریوں کے ہاں سال میں دو تین بڑے میلے ہوتے تھے۔ انہی میں سے کسی میلے کی تاریخ سامنے تھی۔ انہوں نے اسی میلے کے دن کو نامزد رک دیا اور وقت بھی مقرر کردیا کہ لوگ چاشت کے وقت جمع ہوں۔ میلہ کا دن لوگوں کو فرصت و فراغت کا دن ہوتا ہے اور کسی پبلک اجتماع کے لئے چاشت کا وقت سب سے زیادہ موزوں خیال کیا جاتا یہ۔ گویا حضرت موسیٰ نے بھی یہ چاہا کہ اسی مقابلے میں فرعون کے سحر و شعبدہ کا سارا طلسم باطل کردیں۔