تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 20. Taa-Haa · Ayah 61
قَالَ لَهُمْ مُّوْسٰى وَیْلَكُمْ لَا تَفْتَرُوْا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا فَیُسْحِتَكُمْ بِعَذَابٍ١ۚ وَ قَدْ خَابَ مَنِ افْتَرٰى﴿61﴾
- قَالَاس نے کہا
- لَهُمْان سے
- مُّوْسٰىموسیٰ
- وَيْلَكُمْخرابی تم پر
- لَا تَفْتَرُوْانہ گھڑو
- عَلَي اللّٰهِاللہ پر
- كَذِبًاجھوٹ
- فَيُسْحِتَكُمْکہ وہ ہلاک کر دے تمہیں
- بِعَذَابٍعذاب سے
- وَقَدْ خَابَاور وہ نامراد ہوا
- مَنِ افْتَرٰىجس نے جھوٹ باندھا
Translation · Tadabbur-e-Quran
موسیٰ ؑ نے کہا تمہاری ناس ہو ! اللہ پر جھوٹ نہ باندھو کہ وہ تم کو کسی عذاب میں پیس دے اور جس نے خدا پر جھوٹ باندھا وہ نامراد ہوا
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
آیت 61
سعت کے اصل معنی ہڈی پر سے گوشت نوچین کے ہیں۔ اسی سے اسحات ہے جس کے معنی کسی چیز کا استیصال کردینے اور اس کی جڑ اکھاڑ دینے کے ہیں۔
میدان مقابلہ میں حضرت موسیٰ کی تقریر
یہ حضرت موسیٰ کی وہ تقریر ہے جو انہوں نے میدان مقابل ہمیں سب سے پہلے مجمع کے سامنے کی ہے۔ انہوں نے فرعون اور اس کے تمام ہم قوموں اور جادوگروں کو مخاطب کر کے بانداز تنبیہ فرمایا کہ تمہارا ناس ہوا تو ایک باطل کی حمایت میں حق کا مقابلہ کرنے آئے ہو۔ خدا پر جھوٹ تہمت نہ باندھو کہ خدا تمہارا قلع قمع کر دے۔ یاد رکھو کہ جو خدا پر افتراء کرتے ہیں وہ نامراد ہو کر رہتے ہیں۔
افتراء علی اللہ سے مراد، جیسا کہ ہم اس کتاب میں جگہ جگہ واضح کرتے آئے ہیں، شرک ہے۔ شرک کو افتراء علی اللہ سے تعبیر کرنے کے وجوہ پر بھی ہم تفسیر سورة مائدہ اور سورة انعام میں گفتگو کرچکے ہیں۔ اوپر کی آیات میں آپ پڑھ چکے ہیں کہ فرعون سے مناظرہ اسی بات پر تھا کہ وہ مدعی رب ہونے کا تھا اور حضرت موسیٰ نے اس کے سامنے اس زعم باطل کی تردید فرمائی تھی کہ رب وہ ہے جس نے اس کائنات کو پیدا کیا ہے اور جس نے اس کی ہدایت اور پرورش کا انتظام فرمایا ہے نہ کہ تم جس کو نہ اس کے خلق میں کوئی دخل اور نہ اس کی تدبیر میں۔ اب وہی بات حضرت موسیٰ نے فرعون کے تمام حامیوں کو مخاطب کر کے سنا دی کہ خدا کا کوئی شریک وسہیم نہیں اگر تم اپنے جی سے کسی اور کو شریک وسہیم بناتے ہو تو یہ تم اپنی من گھڑت بات خدا پر لگاتے ہو۔ خدا کی طرف سے اس کی کوئی مسند تمہارے پاس نہیں ہے اور یہ درحقیقت تم خدا پر افترا کر رہے ہو جس کی پاداش میں تم مستحق ہو کہ خدا تم پر ایک عذاب بھیج کر تمہیں فنا کر دے۔ جو لوگ اللہ پر افترا کرتے ہیں وہ بالآخر نامراد ہو کر رہتے ہیں۔