تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 20. Taa-Haa · Ayah 80
یٰبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ قَدْ اَنْجَیْنٰكُمْ مِّنْ عَدُوِّكُمْ وَ وٰعَدْنٰكُمْ جَانِبَ الطُّوْرِ الْاَیْمَنَ وَ نَزَّلْنَا عَلَیْكُمُ الْمَنَّ وَ السَّلْوٰى﴿80﴾
- يٰبَنِيْٓ اِسْرَآءِيْلَاے بنی اسرائیل
- قَدْتحقیق
- اَنْجَيْنٰكُمْہم نے تمہیں نجات دی
- مِّنْسے
- عَدُوِّكُمْتمہارا دشمن
- وَوٰعَدْنٰكُمْاور ہم نے تم سے وعدہ کیا
- جَانِبَجانب
- الطُّوْرِ الْاَيْمَنَکوہ طور دائیں
- وَنَزَّلْنَااور ہم نے اتارا
- عَلَيْكُمُتم پر
- الْمَنَّمن
- وَالسَّلْوٰىاور سلوی
Translation · Tadabbur-e-Quran
اے بنی اسرئیل ہم نے تم کو تمہارے دشمن سے نجات بخشی اور تم سے طور کے مبارک جانب کو ایک میعاد ٹھہرائی اور تم پر ہم نے من وسلویٰ اتارا
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
آیت 80-82
بنی اسرائیل کو تنبیہ
دریا پار کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو اپنے عظیم احسانات یاد دلا کر ان کو و ہعظیم ذمہ داری یاد دلائی جو ان احسانات کے حق کے طور پر ان پر عائد ہوتی تھی اور ساتھ ہی اس انجام سے بھی آگاہ فرما دیا جو ان لوگوں کے لئے مقتدر ہے جو ان نعمتوں کی ناقدری کریں گے اور شکر کے بجائے کفر اور طغیان کی راہ اختیار کریں گے۔ بعینیہ اسی سیاق وسباق میں، الفاظ کے معمولی تغیر کے ساتھ یہ مضمون سورة بقرہ میں بھی گزر چکا ہے۔ وہاں ہم تفصیل کے ساتھ اس کے ہر پہلو کی وضاحت کرچکے ہیں اس وجہ سے یہاں ہم صرف اشارات پر اکتفا کریں گے۔ تفصیل کے طالب بقرہ کی تفسیر میں آیات 57-46 کے تحت جو کچھ عرض کیا گیا ہے اس پر ایک نظر ڈال لیں۔
ووعدنکم جانب الطور الایمن سے مراد وہ وعدہ ہے جو تو رات دینے کے لئے اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کے واسطہ سے بنی اسرائیل سے فرمایا اور جس کے لئے اس نے ان کو طور کے اسی مقدس جانب میں بلایا جہاں مدین سے واپس ہوتے ہوئے حضرت موسیٰ کو نبوت عطا ہوئی … اللہ تعالیٰ کی اس نعمت کی جو قدر بنی اسرائیل نے کی اس کی تفصیل آگے آرہی ہے۔
ونزلنا علیکم المن والسلوی من وسلوی کی وضاحت بقرہ آیت 57 کے تحت ہوچکی ہے۔ اس نعمت کی بھی بنی اسرائیل نے جو قدر کی اس کا ذکر گزر چکا ہے۔
کلوا من طیبت مارزقنکم ولا تطفی فیہ یہ ان نعمتوں کا حق بیان ہوا ہے۔ اس حق کی یاد دہانی ہر نعمت زبان حال سے بھی کرتی ہے اور بنی اسرائلل کو اللہ تعالیٰ نے ان کے نبی کے واسطہ سے لفظوں میں بھی بار بار اس کی ہدایت فرمایء تھی۔ تورات میں اس کے شواہد موجود ہیں۔ ولاتطغوا فیہ کے اسلوب بیان سے یہ بات بھی نکلتی ہے کہ خدا کی نعمتوں کی فراوانی تم کو طغیان میں مبتلا نہ کرنے پائے۔ یہ طغیان فرعون کی روایت ہے اور اس کا انجام تم اپنی آنکھوں سے دیکھ چکے ہو۔
ومن یعلل علیہ غضبی فقد ھوی یعنی اس قسم کا طغیان خدا کے غضب کو دعوت دیتا ہے اور جس پر خدا کا غضب نازل ہوتا ہے وہ گر کے رہتا ہے۔ گر کے رہتا ہے، یعنی عزت کے عرش سے ذلت کے فرش پر یہ ماجرا بھی تم اپنی آنکھوں دیکھ چکے ہو کہ جو خدائی کا مدعی تھا اس کا انجام کیا ہوا ؟
وانی لغفار لمن تاب وامن وعمل صالحاً ثم اھتدی یہ ان لوگوں کے لئے راہ نجات بتا دی جو ان ہدایات پر عمل کا عزم بالجزم رکھتے ہیں۔ فرمایا کہ اس طرح کے لوگوں سے اگر کوئی غلطی صادر ہو تو اس کی اصلاح کا طریقہ توبہ ہے۔ وہ اپنی غلطی سے رجوع کریں، ایمان اور عمل صالح کی تجدید کریں اور آئندہ کے لئے خدا سے مزید ہدایت کے طالب بنیں۔