تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 20. Taa-Haa · Ayah 87
قَالُوْا مَاۤ اَخْلَفْنَا مَوْعِدَكَ بِمَلْكِنَا وَ لٰكِنَّا حُمِّلْنَاۤ اَوْزَارًا مِّنْ زِیْنَةِ الْقَوْمِ فَقَذَفْنٰهَا فَكَذٰلِكَ اَلْقَى السَّامِرِیُّۙ﴿87﴾
- قَالُوْاوہ بولے
- مَآ اَخْلَفْنَاہم نے خلاف نہیں کیا
- مَوْعِدَكَتمہارا وعدہ
- بِمَلْكِنَااپنے اختیار سے
- وَلٰكِنَّااور لیکن (بلکہ)
- حُمِّلْنَآہم پر لادا گیا
- اَوْزَارًابوجھ
- مِّنْسے۔ کا
- زِيْنَةِ الْقَوْمِقوم کا زیور
- فَقَذَفْنٰهَاتو ہم نے اسے ڈالدیا
- فَكَذٰلِكَپھر اسی طرح
- اَلْقَيڈالا
- السَّامِرِيُّسامری
Translation · Tadabbur-e-Quran
انہوں نے جواب دیا کہ ہم نے آپ سے کئے ہوئے عہد کی خلاف ورزی اپنی مرضی سے نہیں کی۔ بلکہ قوم کے زیورات کا بوجھ جو ہمارے حوالہ کیا گیا تھا ہم نے اس کو پھینک دیا اور اس طرح سامری نے ڈھال کر پیش کردیا۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
اس آیت کے ایجاز کے سبب سے اس کی تاویل میں ہمارے مفسرین کو بڑا اضطراب پیش آیا ہے ہم اپنے لفظوں میں اس کا مطلب بیان کریں گے اس کے بعد اس کے الفاظ کی وضاحت کریں گے۔
قوم کے بزرگوں کی معذرت
حضرت موسیٰ نے جیسا کہ جیسا کہ ہم نے اوپر اشارہ کیا، سب سے پہل یقوم کے ان بزرگوں کو سرزنش کی جن پر انہوں نے اپنی غیر حاضری میں لوگوں کی دیکھ بھال کی ذمہ داری ڈالی تھی۔ ان لوگوں نے اپنی مجبوری و بےبسی بیان کی کہ یہ جو کچھ ہوا اس میں ہمارے ارادے اور ہماری مرضی کو کوئی دخل نہیں ہے بلکہ لوگوں کے زیورات کی امانت کا جو بوجھ ہمارے اوپر تھا اوپر تھا وہ لوگوں کے مطالبے پر ہم نے اپنے سر سے اتار دیا اور اس طرح سامری نے ان کے لئے یہ بچھڑا ڈھال کر تیار کردیا۔ یعنی یہ جرم سرتا سرسامری اور اس کے فریب میں آئے ہوئے ان عوام کا ہے جن کے زیورات ہماری امانت میں تھے۔ ہم ان کے دبائو میں آ کر ان کے زیورات ان کے حوالہ کرنے پر مجبور ہوگئے اور ان زیورات سے سامری نے یہ فتنہ کھڑا کردی۔
ما اخلقنا موعدک بملکنا ملک کے معنی اختیار و اقتدار کے ہیں۔ یعنی آپ ہم سے جو عہد لے کر گئے تھے ہم نے اپنے امکان کے حد تک اس پر قائم رہنے کی پوری کوشش کی لیکن حالات اس قدر قابو سے باہر ہوگئے تھے کہ ہمارے لئے عوام کو کنٹرول میں رکھنا ناممکن ہوگیا۔
ولکنا حملنا اوزاراً من زینۃ القوم زینۃ القوم سے مراد لوگوں کے وہ زیورات ہیں جو ان سرداروں کی امانت میں تھے۔ معلوم ہوتا ہے کہ سفر کی آپا دھاپی میں ضائع ہونے کے خطرے سے محفوظ رکھنے کے لئے اپنے قیمتی زیورات بہت سے لوگوں نے ان سرداروں کی امانت میں رکھ دیئے تھے اور ان لوگوں نے ایک خدمت سمجھ کر مجبوراً یہ ذمہ داری اپنے سرے لی تھی۔ یہ زیورات بنی اسرائیل ہی کے لوگوں کے تھے یا قبطیوں کے ؟ اس باب میں تورات کی روایات متضاد ہیں۔ کتاب خروج کے با 35 سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ بنی اسرائیل ہی کے تھے لیکن اسی کتاب کی دوسری روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ بنی اسرائیل نے ملک چھوڑتے وقت سونے چاندی کے بہت سے زیورات اور ظروف مصریوں سے مسعتار لئے تھے لیکن یہ دوسری روایت بالکل خلاف قیاس معلوم ہوتی ہے۔ اول تو بنی اسرائیل کو مصر میں یہ حیثیت حاصل نہیں تھی کہ وہ مصریوں سے سونے چاندی کے زیورات مستعار لے سکیں اور مصری ان کو اپنے قیمتی ظروف تک اٹھا کر ان کو عاریتہ دے دیں بالخصوص ایسے حالات میں جب کہ سالوں سے ان کے اندر ایک شدید کشمکش برپا تھی اور مصری یہ اندیشہ رکھتے تھے کہ بنی اسرائیل ملک چھوڑ کر جانے کے لئے پر تول رہے ہیں۔ ثانیاً حضرت موسیٰ شرعی اور اخلاقی پہلو سے یہ گوارا کس طرح کرسکتے تھے کہ وہ دوسروں کے عاریت دیئے ہوئے مال پر اپنی قوم کو اس طرح قابض ہونے کی اجازت دیں ! اس وجہ سے ہمارے نزدیک یہ روایت صحیح نہیں ہے۔ صحیح بات ہے کہ یہ بنی اسرائیل ہی کے زیورات تھے۔ قرآن میں دوسری جگہ من حلیھم کے الفاظ ہیں۔ اس سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ بنی اسرائیل کے زیورات تھے۔
فقذ قنھا فکذلک القی السامری قذف کے معنی پھینک دینے اور قے کردینے کے ہیں۔ سرداروں نے کہا کہ ہم نے تو لوگوں کا لاوا ہا بوجھ ناخوش گواری کے ساتھ محض لوگوں کی خدمت کے خیال سے اٹھایا تھا۔ لیکن جب ہم مجبور کردیئے گئے تو ہم نے اس کو سرے سے اتار پھینکا۔ عربی زبان کا ذوق رکھنے والے اندازہ کرسکتے ہیں کہ یہاں حملنا اوزار قذف تینوں ہی الفاظ اس احساس گراں باری کو ظاہر کر رہے ہیں جوان سرداروں کو اس بار امانت کے سبب سے تھا۔ حضرت موسیٰ نے جب ان کو سرزنش فرمانی تو ان و خیال ہوا کہ چونکہ یہ بت ان زیورات سے تیار ہوا ہے جو ان کی امانت میں تھے اس وجہ سے ممکن ہے ان کے پیغمبر کو یہ گمان ہو کہ اس سازش میں کچھ ہاتھ ان کا بھی ہے۔ انہوں نے حضرت موسیٰ کا یہ شبہ دور کرنے کے لئے اپنی پوزیشن صاف کردی کہ اس فتنہ میں ہمارا کوئی حصہ نہیں ہے۔ البتہ لوگوں کے زیورات کا جو بوجھ ہمارے سر پر امادا گیا تھا وہ ہم نے لوگوں کے مطالبہ سے مجبور ہو کر اپنے سر سے اتار پھینکا کہ جو کچھ وہ کرنا چاہتے ہیں کریں۔ ان کے اس قول سے کہ ہم نے یہ جو کچھ کیا اپنے اختیار سے نہیں کیا، یہ بات بھی نکلتی ہے کہ اپنے امکان کے حد تک انہوں نے سامری کے فتنہ سے لوگوں کو بچانے کی کوشش کی لیکن حالات اس قدر بگڑ چکے تھے کہ ان پر قابو پانا ان کے بس میں نہیں تھا۔ ان کی یہ بےبسی چونکہ واضح تھی اس وجہ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ نے ان کا عذر قبول فرما لیا۔
فکذلک القی السامری لفظ القاد عربی میں وسیع معنوں میں آتا ہے یہ جس طرح زمین پر کسی چیز کے ڈال دینے یا پھینک دینے کے معنی میں آتا ہے اسی طرح پانسہ پھینکنے کوئی ہنر دکھانے یا کوئی کرتب دکھانے کے معنی میں بھی آتا ہے۔ سورة حج میں انشاء اللہ ہم اس کی تحقیق بیان کریں گے۔ یہاں یہ لفظ ہنر اور کرتب دکھانے کے معنی میں ہے۔ اسی سورة کی آیت 65 میں ہے امان ان تلقی واما ان نکون اول من القی (ساحروں نے حضرت موسیٰ سے کہا کہ یا تو تم پہلے اپنا کرتب دکھائو یا پھر ہم ہی اپنا ہنر دکھاتے ہیں)
سرداروں نے اس فتنہ کی ساری ذمہ داری سامری پر ڈالی کہ ہم نے مجبور ہو کر زیورات کا بوجھ اپنے سر سے اتار دیا اور پھر اس طرح سامری نے اپنا کرتب دکھایا اور ایک بچھڑا بنا کر اس نے پیش کردیا۔