تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 20. Taa-Haa · Ayah 92
قَالَ یٰهٰرُوْنُ مَا مَنَعَكَ اِذْ رَاَیْتَهُمْ ضَلُّوْۤاۙ﴿92﴾
- قَالَاس نے کہا
- يٰهٰرُوْنُاے ہارون
- مَا مَنَعَكَتجھے کس چیز نے روکا
- اِذْجب
- رَاَيْتَهُمْتو نے دیکھا انہیں
- ضَلُّوْٓاوہ گمراہ ہوگئے
Translation · Tadabbur-e-Quran
موسیٰ نے کہا اے ہارون !ٖ جب تم نے دیکھا کہ یہ گمراہ ہوئے جا رہے ہیں
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
آیت 93-92
حضرت ہارون سے پرستش
قوم کے سرداروں سے پوچھ گچھ کے بعد حضرت موسیٰ ، حضرت ہارون کی طرف متوجہ ہوئے جن پر قوم کی دیکھ بھال کی اصل ذمہ داری تھی۔ ان سے پوچھا کہ جب تم نے لوگوں کو گمراہی کی راہ پر جاتے دیکھا تو میری ہدایت کی پیروی کیوں نہ کی، کیا تم نے میرے حکم کی نافرمانی کی ؟ اس حکم سے مراد جو طور پر جاتے وقت وہ حضرت ہارون اور اپنے مقرر کردہ مانیٹروں کو دے گئے تھے۔ سورة اعراف کی آیت 123 کے تحت بھی اس کا ذکر ہم کرچکے ہیں کہ انہوں نے حضرت ہارون کو ہدایت فرمای تھی کہ میرے بعد جملہ معاملات میں میری جانشینی کرنا اور قوم کے اندر جو مفسد عناصر ہیں ان سے چونے رہنا، ان کو سر اٹھانے کا موقع نہ دینا۔ حضرت موسیٰ کے سوال کا انداز ایسا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کو یہ گمان نہیں تھا کہ حضرت ہارون ینے دیدہ دانستہ ان کے حکم کی نافرمانی کی ہے بلکہ وہ ان کا عذر معلوم کرنا چاہتے تھے کہ آخر وہ کیا مجبویر پیش آئی کہ وہ اس فتنہ کا سدباب نہ کرسکے اور اس کو سر اٹھانے کا موقع معلوم کرنا چاہتے تھے کہ آخر وہ کیا مجبوری پیش آئی کہ وہ اس فتنہ کا سدباب نہ کرسکے اور اس کو سر اٹھانے کا موقع مل گیا۔
مامنعک کے بعد بظاہر الا تتبعن میں لا کی ضرورت نہیں تھی، چناچہ ہمارے اہل نحواس کو زائد ماتنے ہیں۔ لیکن یہ زائد نہیں ہے بلکہ یہ زبان کے معروف استعمال کے مطابق تاکید کے لئے آتا ہے۔ کلام عرب میں اس کی مثالیں بہت ہیں۔ ہماری زبان میں بھی یہ اسلوب موجود ہے۔