تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 20. Taa-Haa · Ayah 91
قَالُوْا لَنْ نَّبْرَحَ عَلَیْهِ عٰكِفِیْنَ حَتّٰى یَرْجِعَ اِلَیْنَا مُوْسٰى﴿91﴾
- قَالُوْاانہوں نے کہا
- لَنْ نَّبْرَحَہم ہرگز جدا نہ ہوں گے
- عَلَيْهِاس پر
- عٰكِفِيْنَجمے ہوئے
- حَتّٰىیہانتک کہ
- يَرْجِعَلوٹے
- اِلَيْنَاہماری طرف
- مُوْسٰىموسیٰ
Translation · Tadabbur-e-Quran
وہ بولے کہ ہم تو اب اسی کی عبادت پر جمے رہیں گے تاآنکہ موسیٰ ہمارے پاس واپس آجائیں
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
حضرت ہارون نے لوگوں کو آگاہ کرنے کی پوری کوشش کی لیکن ان کی کسی نے ایک نہ سنی۔ لوگوں نے جواب دیا کہ ابتو ہم اس کی پرستش پر حضرت موسیٰ کی واپسی تک بہرحال قائم رہیں گے اور دیکھیں گے کہ وہ آ کر کیا عیصا کرتے ہیں۔ اس فقرے سے یہ بات نکلتی ہے کہ لوگ سامری کے چکمے میں آ کر حضرت ہارون کی تمام کوششوں کی علی الرغم ایک شدید حماقت تو کر بیٹھے لیکن بعد میں بہت سے لوگوں کو، جیسا کہ سورة اعراف سے واضح ہوتا ہے اپنی اس حماقت کا احساس ہوا۔ مگر ایک حماقت کر گزرنے کے بعد اس سے پیچھا چھڑانا آسان نہیں ہوتا۔ چناچہ یہ لوگ بھی اس سے فوری دست برداری کا اعلان کرنے کے بجائے مجبور ہوئے کہ حضرت موسیٰ کی واپسی تک اسی جہالت پر جمے رہیں۔