Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 20. Taa-Haa · Ayah 94

  1. قَالَ یَبْنَؤُمَّ لَا تَاْخُذْ بِلِحْیَتِیْ وَ لَا بِرَاْسِیْ١ۚ اِنِّیْ خَشِیْتُ اَنْ تَقُوْلَ فَرَّقْتَ بَیْنَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ وَ لَمْ تَرْقُبْ قَوْلِیْ﴿94﴾

    1. قَالَاس نے کہا
    2. يَبْنَؤُمَّاے میرے ماں جائے
    3. لَا تَاْخُذْجنہ پکڑیں
    4. بِلِحْيَتِيْمجھے داڑھی سے
    5. وَلَا بِرَاْسِيْاور نہ سر سے
    6. اِنِّىْبیشک میں
    7. خَشِيْتُڈرا
    8. اَنْ تَقُوْلَکہ تم کہو گے
    9. فَرَّقْتَتونے تفرقہ ڈالدیا
    10. بَيْنَدرمیان
    11. بَنِيْٓ اِسْرَآءِيْلَبنی اسرائیل
    12. وَاور
    13. لَمْ تَرْقُبْنہ خیال رکھا
    14. قَوْلِيْمیری بات
Translation · Tadabbur-e-Quran
اس نے جواب دیا کہ اے میرے ماں جائے ! نہ میری ڈاڑھی پکڑیے نہ میرا سر۔ مجھے اندیشہ ہوا کہ مبادا آپ یہ کہیں کہ تم نے بنی اسرائیل کے درمیان پھوٹ ڈالی دی اور میری بات کا لحاظ نہ کیا
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
حضرت ہارون کی معذرت حضرت موسیٰ نے حضرت ہارون کا سر اور ان کی ڈاڑھی پکڑ کر ان کو جھنجھوڑا کہ تم نے یہ کیا کمزوری دکھائی ! حضرت موسیٰ کے اس طرز عمل سے ان کی حمیت حق بھی نمایاں ہو رہی ہے اور وہ محبت بھی جو فطری طور پر ان کو حضرت ہارون سے تھی۔ اس محبت کا تقاضا یہی تھا کہ جب انہوں نے محسوس فرمایا کہ حضرت ہارون سے دین کے معاملے میں کمزور صادر ہوئی ہے تو وہ جذبات سے مغلوب ہوگئے اور ان کو انہوں نے سختی سے جھنجھوڑا۔ حضرات انبیاء اور صالحین کا طریقہ یہی ہے کہ وہ دنیا کے معاملات میں تور داداری برتتے ہیں لیکن دین کے معاملات میں وہ مداہفت نہیں برتتے۔ اس معاملے میں جو ان سے جتنا ہی قریب ہوتا ہے وہ اس کے لئے اتنے ہی زیادہ حساس ہوتے ہیں۔ اہل دنیا کی روش اس سے بالکل مختلف ہوتی ہے۔ وہ اپنی دنیا کے معاملات میں تو بڑے چوکنے اور زیرک ہوتے ہیں، اپنے باپ اور بیٹے کا بھی محسابہ کرتے ہیں لیکن دین کیم عاملے میں بالکل بےحمیت اور بےحس ہوتے ہیں۔ بھائی بند جو چاہیں کرتے پھریں ان کی غیرت کو ذرا بھی حرکت نہیں ہوتی ! حضرت ہارون نے اپنی معذرت پیش کی اور انداز خطاب بہت ہی پیارا ہے۔ فرمایا اے میرے ماں جائے ! میری ڈاڑھی اور میرا سر نہ پکڑ یے مجھے یہ اندیشہ ہوا کہ اگر میں نے کوئی سخت قدم اٹھایا تو بنی اسرائیل کے درمیان تفریق ہوجائے گی اور پھر آپ کہیں گے کہ میں نے آپ کی نصیحت پر عمل نہیں کیا اور ملت کے اندر تفریق برپا کردی۔ سورة اعراف کی تفسیر میں ہم یہ وضاح کرچکے ہیں کہ حضرت ہ اورن نے لوگوں کو اس فتنہ سے روکنے کی انتہائی کوشش کی لیکن ایک عظیم اکثریت پر سامری کا جادو اس طرح چل چکا تھا کہ لوگوں کو روکنا تو درکنار، اندیشہ اس بات کا پیدا ہوگیا تھا کہ مبادا اشرار حضرت ہارون کو قتل کردیں۔ اب دو ہی صورتیں باقی رہ گئیں تھیں۔ یا تو حضرت ہارون اپنے ساتھیوں کو لے کر الگ ہوجائیں یا چند دن حضرت موسیٰ کی واپسی کا انتظار کریں پہلی صورت میں اندیشہ تفریق ملت اور باہمی کشت و خون کا تھا۔ دوسری صورت میں توقع تھی کہ حضرت موسیٰ اپنے دبدبہ اور حسن تدبیر سے حالات پر قابو پا لیں گے۔ اسی توقع کی بنا پر انہوں نے پہلی صورت اختیار نہ کی کہ اس سے اصلاح کی جگہ فساد کا اندیشہ تھا اور وہ حتی الامکان اس فساد سے قوم کو محفوظ رکھنا چاہتے تھے۔