تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 20. Taa-Haa · Ayah 96
قَالَ بَصُرْتُ بِمَا لَمْ یَبْصُرُوْا بِهٖ فَقَبَضْتُ قَبْضَةً مِّنْ اَثَرِ الرَّسُوْلِ فَنَبَذْتُهَا وَ كَذٰلِكَ سَوَّلَتْ لِیْ نَفْسِیْ﴿96﴾
- قَالَوہ بولا
- بَصُرْتُمیں نے دیکھا
- بِمَاوہ جو کہ
- لَمْ يَبْصُرُوْاانہوں نے نہ دیکھا
- بِهٖاس کو
- فَقَبَضْتُپس میں نے مٹھی بھرلی
- قَبْضَةًایک مٹھی
- مِّنْسے
- اَثَرِ الرَّسُوْلِفرشتہ کا نقش قدم
- فَنَبَذْتُهَاتو میں نے وہ ڈالدی
- وَكَذٰلِكَاور اسی طرح
- سَوَّلَتْپھسلایا
- لِيْمجھے
- نَفْسِيْمیرا نفس
Translation · Tadabbur-e-Quran
اس نے جواب دیا مجھے وہ چیز نظر آئی جو اوروں کو نظر نہیں آئی تو میں نے فرستادے کے نقش قدم سے ایک مٹھی اٹھائی اور وہ اس میں ڈال دی اور اس طرح میرے نفس نے مجھے سمجھایا
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
سامری کا ڈھونگ
سامری نے جب دیکھا کہ اب وہ حضرت موسیٰ کی گرفت میں آچکا ہے تو اس نے نہایت ہوشیاری کے ساتھ ایک بات بنائی جس میں اس نے ایک طرف تو اپنے تو اپنے اس فعل کے لئے ایک وجہ بھی بیان کرنے کی کوشش کی اور ساتھ ہی اس امر کا اعتراف بھی کرلیا کہ اب مجھ پر یہ بات واضح ہوگئی کہ یہ جو کچھ بھی میں نے سمجھا تھا یہ محض فریب نفس تھا اور میں غلط فہمی کے سبب سے فنس کے فریب کو ایک حقیقت سمجھ بیٹھا۔
بات تو اس نے یہ بنائی کہ مجھے ایک کشفی مشاہدہ ہوا جو صرف مجھی کو ہوا دوسروں کو نہیں ہوا۔ وہ سر کہ میں نے دیکھا کہ حضرت جبرئیل آئے ہیں اور میں نے ان کے نقش قدم (یا ان کے گھوڑے کے نقش قدم) سے ایک مٹھی خاک اٹھالی ہے اور ایک بچھڑا بنا کر اس کے اندر ڈال دی ہے جس سے وہ بولنے لگا لیکن اب آپ کی اس تنبیہ کے بعد مجھ پر یہ حقیقت واضح ہوگئی کہ یہ کوئی کشف کا مشاہدہ نہیں تھا بلکہ یہ محض میرے نفس کا ایک دھوکا تھا جس میں مبتلا ہو کر میں یہ جرم کر بیٹھا۔ سامری نے اس طرح حضرت موسیٰ کے سامنے اپنے آپ کو معذور ٹھہرانے کی کوشش کی کہ اس نے یہ جو کچھ کیا ایک کشف کے زیر اثر کیا، بطور خود کسی شرارت کے ارادے سے نہیں کیا۔ لیکن اسے اچھی طرح اندازہ تھا کہ اب حضرت موسیٰ کی گرفت سے اس کے لئے چھوٹنا آسان نہیں یہ اور اس قسم کے دھونس ان کے آگے چلنے والی نہیں ہے اس وجہ سے اس نے یہ اعتراض بھی کرلیا کہ یہ جو کچھ ہوا محض مغالطہ کا نتیجہ ہے کہ میں اپنے نفس کے ایک فریب کو ایک شکف سمجھ بیٹھا اور مجھ سے یہ جرم صادر ہوگیا۔