تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 21. Al-Anbiyaa · Ayah 103
لَا یَحْزُنُهُمُ الْفَزَعُ الْاَكْبَرُ وَ تَتَلَقّٰىهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ١ؕ هٰذَا یَوْمُكُمُ الَّذِیْ كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ﴿103﴾
- لَا يَحْزُنُهُمُغمگین نہ کرے گی انہیں
- الْفَزَعُگھبراہٹ
- الْاَكْبَرُبڑی
- وَتَتَلَقّٰىهُمُاور لینے آئیں گے انہیں
- الْمَلٰٓئِكَةُفرشتے
- ھٰذَایہ ہے
- يَوْمُكُمُتمہارا دن
- الَّذِيْوہ جو
- كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَتم تھے وعدہ کیے گئے (وعدہ کیا گیا تھا
Translation · Tadabbur-e-Quran
ان کو اس دن کی بڑی گھبراہٹ کا غم لاحق نہ ہوگا اور فرشتے ان کا خیر مقدم کریں گے، کہیں گے یہ ہے آپ لوگوں کا وہ دن جس کا آپ لوگوں سے وعدہ کیا جا رہا تھا
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
ابدی بادشاہی کی بشارت
فزع اکبر سے مراد وہ عظیم ہلچل اور گھبراہٹ ہے جو نفخ صدور کے بعد تمامک ائنات میں برپا ہوگی اور جس کی ہولناک تصویر قرآن نے جگہ جگہ کھینچی ہے۔ خصوصاً آخری گروپ کی سورتوں میں تو قرآن کے اعجاز بیان نے اس طرح اس کو مصور کردیا ہے کہ انسان دیدہ بنیا رکھتا ہو تو اس کو آنکھوں سے دیکھ لیتا ہے۔ اوپر آیت 97 اسی کی طرف فاذا ھی شاخمۃ ابصار الذین کفروا کے الفاظ سے اشارہ کر رہی ہے۔ فرمایا کہ یہ عظیم ہلچل کا دن ہمارے باایمان بندوں کے لئے ذرا بھی اضطراب کا باعث نہیں بنے گا بلکہ اس دن ہمارے رفشیت اہلاً و سہلاً اور مرحبا کے نعروں سے ان کا استقبال کریں گے اور ان کو بشارت دیں گے کہ ابدی کا مرانیوں کے جس مبارک دن کا، نبیوں اور رسولوں کے ذریعہ سے آپ لوگوں سے وعدہ کیا گیا تھا وہ آگیا۔ اب آپ لوگوں کو ابدی بادشاہی مبارک ہو ! !