Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 21. Al-Anbiyaa · Ayah 104

  1. یَوْمَ نَطْوِی السَّمَآءَ كَطَیِّ السِّجِلِّ لِلْكُتُبِ١ؕ كَمَا بَدَاْنَاۤ اَوَّلَ خَلْقٍ نُّعِیْدُهٗ١ؕ وَعْدًا عَلَیْنَا١ؕ اِنَّا كُنَّا فٰعِلِیْنَ﴿104﴾

    1. يَوْمَجس دن
    2. نَطْوِيہم لپیٹ لیں گے
    3. السَّمَآءَآسمان
    4. كَطَيِّجیسے لپیٹا جاتا ہے
    5. السِّجِلِّطومار
    6. لِلْكُتُبِتحریر کا کاغذ
    7. كَمَا بَدَاْنَآجیسے ہم نے ابتدا کی
    8. اَوَّلَپہلی
    9. خَلْقٍپیدائش
    10. نُّعِيْدُهٗہم اسے لوٹا دیں گے
    11. وَعْدًاوعدہ
    12. عَلَيْنَاہم پر
    13. اِنَّا كُنَّابیشک ہم میں
    14. فٰعِلِيْنَ(پورا) کرنے والے
Translation · Tadabbur-e-Quran
اس دن کا خیال کرو جس دن ہم آسمان کو لپیٹ لیں گے جس طرح طو مار میں اوراق کو لپیٹتے ہیں۔ جس طرح ہم نے پہلی خلقت کا آغاز کیا اسی طرح ہم پھر اس کا عادہ کریں گے۔ یہ ہم پر ایک حتمی وعدہ ہے۔ بیشک ہم یہ کر کے رہیں گے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
سجل اور کتب کا مفہوم سجل اس دفتر یا طومار یا فائل کو کہتے ہیں جس میں لکھے ہوئے اوراق کر لئے جاتے ہیں۔ کتب یہاں اوراق نوشتہ کے معنی میں ہے۔ اول خلق ظرف کے محل میں ہے۔ اسی مضمون کو ادا کرنے کے لئے قرآن میں بعض جگہ اول مرۃ کا لفظ بھی آیا ہے۔ نئے آسمان اور نئی زمین مطلب یہ ہے کہ یہ سب کچھ اس دن ہوگا جس دن ہم اس پھیلے ہوئے آسمان کی بساط اس طرح لپیٹ کر رکھ دیں گے جس طرح طومار میں کاغذات لپیٹ کر رکھ دیئے جاتے ہیں اور جس طرح ہم نے پہلی بار آسمان و زمین پیدا کئے اسی طرح ان کی جگہ نئے نوامیس و قوانین کے ساتھ نئے آسمان و زمین پیدا کریں گے۔ وعد اعلینا میں مصدر تاکید کے لئے ہے۔ یعنی یہ ہمارے ذمہ ایک حتمی وعدہ ہے۔ ہم نے اپنے نیک بندوں سے، جیسا کہ اوپر والی آیت کے الفاظ کنتم توعدون میں اشارہ ہے۔ اس کا قطعی وعدہ کر رکھا ہے جس کا ایفا ہماری ذمہ داری ہے۔ انا کنا فعلین یعنی کوئی یہ نہ سمجھے کہ یہ محض ہوائی باتیں ہیں جو ہم کر نہیں سکیں گے یا نہیں کریں گے۔ یہ ہم ضرور کریں گے، اس کا ہم نے پہلے سے فیصلہ کر رکھا ہے اور یہ ہمارے لئے ایک نہایت آسان بات ہے۔