تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 21. Al-Anbiyaa · Ayah 18
بَلْ نَقْذِفُ بِالْحَقِّ عَلَى الْبَاطِلِ فَیَدْمَغُهٗ فَاِذَا هُوَ زَاهِقٌ١ؕ وَ لَكُمُ الْوَیْلُ مِمَّا تَصِفُوْنَ﴿18﴾
- بَلْبلکہ
- نَقْذِفُہم پھینک مارتے ہیں
- بِالْحَقِّحق کو
- عَلَيپر
- الْبَاطِلِباطل
- فَيَدْمَغُهٗپس وہ اس کا بھیجا نکال دیتا ہے
- فَاِذَاتو اس وقت
- هُوَوہ
- زَاهِقٌنابود ہوجاتا ہے
- وَلَكُمُاور تمہارے لیے
- الْوَيْلُخرابی
- مِمَّااس سے جو
- تَصِفُوْنَتم بناتے ہو
Translation · Tadabbur-e-Quran
بلکہ ہم حق کو باطل پر دے ماریں گے تو وہ اس کا بھیجا نکال دے گا تو دیکھو گے کہ وہ نابود ہو کے رہے گا اور تمہارے لئے اس چیز کے سبب سے، جو تم بیان کرتے ہو، بڑی خرابی ہے !
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
اصل حقیقت کا بیان
دمغ کے معنی کسی کو اس طرح مارنے اور زخمی کرنے کے ہیں کہ وہ اس کا بھیجا نکال دے۔
فرمایا کہ تم جو اس دنیا کو ایک کھیل تماشا سمجھے بیٹھے ہو، یہ خیال بالکل باطل ہے۔ اس میں ہم نے حق کے ساتھ باطل کو جو مہلت دے رکھی ہے تو اس وجہ سے نہیں کہ ہمارے نزدیک حق و باطل دونوں یکساں ہیں بلکہ یہ محض تمہایر امتحان کے لئے ہے کہ دیکھیں کون حق کی راہ اختیار کرتا ہے اور کون باطل کا پرستار بنتا ہے۔ بالآخر ایک دن آئے گا جب تم دیکھو گے کہ ہم حق کا ہتھوڑا باطل کے سر پر اس طرح ماریں گے کہ وہ باطل کا بھیجا نکال کر رکھ دے گا اور جس طرح تم دیکھتے ہو کہ دماغ پر ضرب کاری آدمی کو آنا فاناً ختم کردیتی ہے اسی طرح یہ ضرب کاری باطل کو چشم زدن میں نابود کر دے گی۔
ولکم الویل مما تصفون یعنی اس وقت تمہاری اس بکواس کے سبب سے جو تم آج کر رہے ہو تمہارے لئے صرف تباہی اور ہلاکی ہی ہوگی۔ مما تصفون سے ہمارے نزدیک مراد ان کا دنیا سے متعلق یہ تصور بھی ہے کہ یہ محض ایک کھیل تماشا ہے اور انکے شرک و شفاعت کا وہ عقیدہ بھی ہے جس کے سبب سے وہ آخرت سے بالکل نچنت ہو کہ یہ سمجھے بیٹھے تھے کہ بالفرض آخرت سے سابقہ پیش ہی آیا تو ان کے شرکاء و شفعاء ان کو ہر خطرے سے بچا لیں گے۔ فرمایا کہ تمہاری یہ تمام باتیں موجب و بال اور سبب ہلاکت نہیں بنیں گی۔