Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 21. Al-Anbiyaa · Ayah 47

  1. وَ نَضَعُ الْمَوَازِیْنَ الْقِسْطَ لِیَوْمِ الْقِیٰمَةِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَیْئًا١ؕ وَ اِنْ كَانَ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ اَتَیْنَا بِهَا١ؕ وَ كَفٰى بِنَا حٰسِبِیْنَ﴿47﴾

    1. وَنَضَعُاور ہم رکھیں گے (قائم کرینگے)
    2. الْمَوَازِيْنَترازو۔ میزان
    3. الْقِسْطَانصاف
    4. لِيَوْمِدن
    5. الْقِيٰمَةِقیامت
    6. فَلَا تُظْلَمُتو نہ ظلم کیا جائے گا
    7. نَفْسٌکسی شخص پر
    8. شَيْئًاکچھ بھی
    9. وَ اِنْاور اگر
    10. كَانَہوگا
    11. مِثْقَالَوزان۔ برابر
    12. حَبَّةٍایک دانہ
    13. مِّنْ خَرْدَلٍرائی سے۔ کا
    14. اَتَيْنَا بِهَاہم اسے لے آئیں گے
    15. وَكَفٰىاور کافی
    16. بِنَاہم
    17. حٰسِبِيْنَحساب لینے والے
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور قیامت کے دن ہم میزان عدل قائم کریں گے تو کسی جان پر ذرا بھی ظلم نہیں کیا جائے گا اور اگر کسی کارروائی کے دانہ کے برابر بھی کوئی عمل ہوگا تو ہم اس کو موجود کردیں گے اور ہم حساب لینے کے لئے کافی ہیں
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
قیامت ظہور عدل کے لئے ہے الموازین القسط لیوم القیمۃ میں ل کو مفسرین نے فی کے معنی میں لیا ہے لیکن میرے نزدیک یہ غایت و مقصد کے مفہوم میں ہے۔ یعنی مقصد قیامت کے ظہور کے لئے ہم عدل کی مزا ان نصب کریں گے۔ یہ امر ملحوظ رہے کہ قیامت بجائے خود مقصود نہیں ہے بلکہ یہ خدا کے عدل و انصاف کے ظہور کے لئے لازمی ہے۔ وان کان میں کان کا اسم بربنائے وضاحت قرینہ محذوف ہے اور اتینابھا میں ضمیر مئونث حبۃ کی مناسبت سے ہے۔ فرمایا کہ مقصد قیامت یعنی جزا و سزا کو بروئے کار لانے کے لئے ہم عدل کی میزانیں نصب کریں گے تو اس دن کسی جان پر کوئی ظلم نہیں ہوگا بلکہ ہر جان ٹھیک ٹھیک کانٹے کی تول اپنے اعمال کا بدلہ پائے گی۔ رائی کے دانہ کے برابر بھی اگر کسی کا کوئی عمل ہوگا تو ہم اس کو بھی اس کے سامنے حاضر کردیں گے۔ وکفی بنا حسنین ہم حساب کے لئے کافی ہیں۔ یعنی اس کام میں ہمیں کسی کی مدد و معاونت کی ضرورت نہیں ہوگی، ہم تنہا اس کو سرانجام دیں گے۔ اگر کسی نے یہ گمان کر رکھا ہے کہ ساری خدائی کا یہ حساب کتاب ہم کس طرح کرسکیں گے تو یہ اس کا مغالطہ ہے اور اگر کوئی اس وہم میں مبتلا ہے کہ خدا کسی کے باب میں اس کے مزعومہ شرکاء و شفعاء سے کچھ معلومات حاصل کرنے کا محتاج ہوگا تو یہ بھی محض ایک واہمہ ہے۔ سورة لقمان میں یہی مضمون اس طرح بیان ہوا ہے۔ آیت 16 اے میرے بیٹے کوئی عمل رائی کے دانہ کے برابر بھی ہوگا تو خواہ وہ کسی گھاٹی میں ہو یا آسمانوں میں ہو یا زمین میں خدا اس کو موجود کر دے گا۔ بیشک خدا بڑا ہی باریک بین اور بڑی ہی خبر رکھنے والا ہے۔