تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 21. Al-Anbiyaa · Ayah 77
وَ نَصَرْنٰهُ مِنَ الْقَوْمِ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمَ سَوْءٍ فَاَغْرَقْنٰهُمْ اَجْمَعِیْنَ﴿77﴾
- وَنَصَرْنٰهُاور ہم نے اس کو مدد دی
- مِنَسے (پر)
- الْقَوْمِلوگ
- الَّذِيْنَجنہوں نے
- كَذَّبُوْاجھٹلایا
- بِاٰيٰتِنَاہماری آیتوں کو
- اِنَّهُمْبیشک وہ
- كَانُوْاوہ تھے
- قَوْمَلوگ
- سَوْءٍبرے
- فَاَغْرَقْنٰهُمْہم نے غرق کردیا انہیں
- اَجْمَعِيْنَسب
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور اس کی مدد میں ان لوگوں سے ہم نے انتقام لیا۔ جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا۔ بیشک وہ نہایت ہی برے لوگ تھے تو ہم نے ان سب کو غرق کردیا
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
قوم نوح کا انجام
نصرنا کے بعد من کا صلہ اس امر کا قرینہ ہے کہ یہاں یہ لفظ انتقمنا کے مفہوم پر متضمن ہے۔ عرق زبان کے اس اسلوب کی وضاحت ہم جگہ جگہ کرتے آ رہے ہیں۔ اس وجہ سے ہمارے نزدیک اس کا ترجمہ یہ ہوگا کہ ہم نے اس کی مدد کی اور ان لوگوں سے ہم نے انتقام لیاج نہوں نے ہماری آیات کی تکذیب کی۔ ہم نے ترجمہ میں اس تضمین کو کھولنے کی کوشش کی ہے۔ انھم کا نوا قوم سوء میں بالا جمال ان کے جم کی طرف اشارہ ہے کہ یہ نہایت ہی برے لوگ تھے۔ ان کے جرائم کی تفصیل پچھلی سورتوں میں بھی گزر چکی ہے اور اگٓے سورة نوح میں بھی آئے گی۔ یہاں صرف اتنی بات یاد رکھیے کہ جتنی طویل مدت تک حضرت نوح نے اپنی قوم کو جھنجھوڑا ہے اس کی کوئی دوسری مثال شاید مشکل ہی سے مل سکے گی اور حضرت نوح کی دلشوزی اور درد مندی کا جو حال رہا ہے اس کی تفصیل خود حضرت نوح کی زبان سے انشاء اللہ سورح نوح کی تفسیر میں آئے گی لیکن یہ ایسے پھتر لوگ تھے کہ کوئی چیز بھی ان پر کارگر نہ ہوسکی۔ فاغرقنھم اجمعین ان لوگوں کی اس سنگ دلی اور نابکاری کی سزا ان کو بالآخر یہ ملی کہ پوری قوم کی قوم کو اللہ تعالیٰ نے غرق کردیا۔ بلکہ یہ پوری قوم خدا کی زمین پر غلاظت کا ایک ڈھیر تھی جس کو دور کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے زمین کے سمندروں اور آسمان کے بادلوں کو حکم دیا کہ وہ اس ناپاکی کے ڈھیر سے خدا کی زمین کو دھوکر پاک کردیں۔ چناچہ یہ امر واقعہ ہے کہ طوفان نوح نے اس زمین کو دھوکر پاک کردیا اور اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح اور ان کے پاکیزہ صفات ساتھیوں سے اس کو از سر نو آباد کیا۔ اس مضمون کو اچھی طرح کھولنے کے لئے تورات میں قوم نوح سے متعلق جو کچھ آیا ہے اس کا حوالہ بہت مفید رہتا۔ لیکن اس کے لئے موزوں جگہ انشاء اللہ سورة نوح کی تفسیر میں آئے گی۔