Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 22. Al-Hajj · Ayah 61

  1. ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ یُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّهَارِ وَ یُوْلِجُ النَّهَارَ فِی الَّیْلِ وَ اَنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌۢ بَصِیْرٌ﴿61﴾

    1. ذٰلِكَیہ
    2. بِاَنَّاس لیے کہ
    3. اللّٰهَاللہ
    4. يُوْلِجُداخل کرتا ہے
    5. الَّيْلَرات
    6. فِي النَّهَارِدن میں
    7. وَيُوْلِجُاور داخل کرتا ہے
    8. النَّهَارَدن
    9. فِي الَّيْلِرات میں
    10. وَاَنَّاور یہ کہ
    11. اللّٰهَاللہ
    12. سَمِيْعٌسننے والا
    13. بَصِيْرٌدیکھنے والا
Translation · Tadabbur-e-Quran
یہ اس وجہ سے ہوگا کہ اللہ ہی ہے جو رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے اور اللہ سننے والا دیکھنے والا ہے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
وعدہ نصرت کی پہلی دلیل یہ اوپر کے وعدہ نصرت کی دلیل ارشاد ہوئی ہے کہ خدا اس کائنات میں کوئی ناکارہ وجود نہیں ہے، جیسا کہ ان احمقوں نے گمان کر رکھا ہے، بلکہ مصرف حقیقی وہی ہے وہی ہر روز دن کے بعد رات کو لاتا ہے اور رات کے بعد دن کو نمایاں کرتا ہے اور وہ سمیع وبصیر ہے یعنی (نعوذ باللہ) وہ کوئی اندھا بہرا نہیں ہے کہ اشرار و مفسدین اس کی دنیا میں جو دھاندلی مچاتے پھریں وہ بے، خبر بیٹھا رہے۔ وہ سب کچھ دیکھ اور سن رہا ہے۔ تو جب مصرف حقیقی بھی وہی ہے اور وہ سب کچھ دیکھتا اور سنتا بھی ہے تو آخر وہ اس کائنات کی سیاست سے بےتعلق کیسے رہے گا ؟ لازم ہے کہ وہ ان لوگوں کے مقابل میں، جو اس کی دنیا میں فساد برپا کر رہے ہیں، ان لوگوں کی مدد فرمائے جو اس کی اصلاح کے طالب ہیں اور جب وہ رات کے بعد دن کے لانے پر قادر ہے اور اس کی اس قدرت کا مشاہدہ ہر شخص ہر روز کر رہا ہے تو کفر کی تاریکی کو مٹا کر دنیا کو ایمان کی روشنی سے جگمگا دینا اس کے لئے کیا مشکل ہے !