Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 23. Al-Muminoon · Ayah 27

  1. فَاَوْحَیْنَاۤ اِلَیْهِ اَنِ اصْنَعِ الْفُلْكَ بِاَعْیُنِنَا وَ وَحْیِنَا فَاِذَا جَآءَ اَمْرُنَا وَ فَارَ التَّنُّوْرُ١ۙ فَاسْلُكْ فِیْهَا مِنْ كُلٍّ زَوْجَیْنِ اثْنَیْنِ وَ اَهْلَكَ اِلَّا مَنْ سَبَقَ عَلَیْهِ الْقَوْلُ مِنْهُمْ١ۚ وَ لَا تُخَاطِبْنِیْ فِی الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا١ۚ اِنَّهُمْ مُّغْرَقُوْنَ﴿27﴾

    1. فَاَوْحَيْنَآتو ہم نے وحی بھیجی
    2. اِلَيْهِاس کی طرف
    3. اَنِکہ
    4. اصْنَعِتم بناؤ
    5. الْفُلْكَکشتی
    6. بِاَعْيُنِنَاہماری آنکھوں کے سامنے
    7. وَوَحْيِنَااور ہمارا حکم
    8. فَاِذَاپھر جب
    9. جَآءَآجائے
    10. اَمْرُنَاہمارا حکم
    11. وَفَارَ التَّنُّوْرُاور تنور ابلنے لگے
    12. فَاسْلُكْتو چلا لے (رکھ لے)
    13. فِيْهَااس میں
    14. مِنْسے
    15. كُلٍّہر (قسم)
    16. زَوْجَيْنِجوڑا
    17. اثْنَيْنِدو
    18. وَاَهْلَكَاور اپنے گھروالے
    19. اِلَّاسوا
    20. مَنْجو۔ جس
    21. سَبَقَپہلے ہوچکا
    22. عَلَيْهِاس پر
    23. الْقَوْلُحکم
    24. مِنْهُمْان میں سے
    25. وَلَا تُخَاطِبْنِيْاور نہ کرنا مجھ سے بات
    26. فِيمیں۔ بارہ میں
    27. الَّذِيْنَ ظَلَمُوْاوہ جنہوں نے ظلم کیا
    28. اِنَّهُمْبیشک وہ
    29. مُّغْرَقُوْنَغرق کیے جانے والے ہیں
Translation · Tadabbur-e-Quran
تو ہم نے اس کو وحی کی کہ ہماری نگرانی میں اور ہماری ہدایت کے مطابق کشتی بنائو تو جب ہمارا عذاب آجائے اور طوفان امڈ پڑے تو اس میں ہر چیز کے جوڑے رکھ لو اور اپنے لوگوں کو بھی سوار کرالو بجز ان کے جن کے بارے میں قول فصیل ہوچکا ہے اور مجھ سے ان لوگوں کے باب میں کچھ نہ کہیو جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے ! وہ لازماً غرق ہو کے رہیں گے !
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
بعض اجمالات کی وضاحت یہ آیت بلکہ حضرت نوح کی پوری سرگزشت سورة ہود میں گزر چکی ہے۔ اس وجہ سے یہاں ہم صرف اشارات پر کفایت کریں گے۔ کسی چیز کی تفصیل مطلوب ہو تو وہاں دیکھ لیجیے۔ باعیننا ووحینا یعنی یہ کشتی ہمارے اہتمام اور ہماری ہدایات کے مطابق بنائو۔ تورات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کا سارا نقشہ، اس کی جزئیات کی تفصیل کے ساتھ، اللہ تعالیٰ نے اپنی وحی کے ذریعہ سے حضرت نوح کو بتایا تاکہ یہ اس عظیم مہم کے لئے بالکل موزوں ہو جو پیش نظر تھی۔ امر سے مراد حکم عذاب ہے۔ فار التنور اسی طرح کا ایک محاورہ ہے جس طرح حمی الوطین، وغیرہ محاورات ہیں۔ ان محاورات کا مفہوم متعین کرنے میں الفاظ کا لحاظ نہیں بلکہ صرف اس مفہوم کا لحاظ ہوتا ہے جس کے لئے یہ استعمال ہوتے ہیں۔ فارا التنور طوفان کے امڈ پڑنے اور جوش مارنے کی ایک تعبیر ہے۔ من کل زوجین اثنین میں لفظ کل، جیسا کہ ہم دوسرے مقام میں ذکر کرچکے ہیں۔ معہود ذہنی کے اعتبار سے استعمال ہوا ہے۔ یعنی ان جانوروں میں سے جو براہ راستا نسان کی معاشی ضرورت سے تعلق رکھنے والے ہیں۔ اثنین زوجین کی وضاحت کے طور پر ہے یعنی ہر چیز میں سے نر و مادہ بس دو دو رکھ لئے جائیں، اس سے زیادہ رکھنے کی فکر نہ کی جائے۔ لفظ اھل کی تشریح سورة انبیاء میں ہم کرچکے ہیں کہ اس میں آدمی کے اہل و عیال کے ساتھ اس کے اتباع و اصحاب بھی شامل ہوتے ہیں۔ قرآن کے دوسری مقامات سے یہ ثابت ہے کہ حضرت نوح پر ان کی قوم کے کچھ لوگ ایمان لائے، اگرچہ ان کی تعداد بہت قلیل تھی۔ الا من سبق علیہ القول سے مراد وہ لوگ ہیں جن کے لئے اتمام حجت کے بعد اب سنت الٰہی کے بموجب ہلاکت مقدر ہوچکی ہے۔ ان میں سب سے نمایاں، جیسا کہ قرآن کے دوسرے مقامات سے واضح ہے، خود حضرت نوح کا بیٹا تھا فرمایا کہ یہ لوگ اس کشتی میں تمہارے ساتھ نہ ہوں گے۔ ولا تخاطبنی فی الذین ظلموا میں ظلموا سے مراد ظلموآ انفسھم ہے یعنی جنہوں نے تمہاری تکذیب پر اصرار کر کے خود اپنی شامت کو دعوت دی۔ فرمایا کہ ایسا نہ ہو کہ جب قہر الٰہی کی موجیں ان ظالموں کو اپنے گھیرے میں لے لیں تو تمہارے اندران کے لئے رافت کا جذبہ ابھرے اور تم ہم سے ان کی نجات کی دعا کرنی شروع کر دو۔ عذاب آجانے کے بعد یہ مرحلہ گزر جائے گا۔ پھر ان کے باب میں تمہاری بھی کوئی شنوائی نہیں ہونی ہے۔ پھر ان میں سے ہر ایک لازماً غرق ہو کے رہے گا۔ ولاتخاطبنی الایہ کا یہ پہلو خاص طور پر نگاہ میں رہے کہ جب عذاب الٰہی آدھمکتا ہے تو اس کی نوعیت ایسی ہوتی ہے کہ ان کے اندر بھی معذبین کے لئے جذبہ رافت ابھرنے کا امکان ہوتا ہے جن کی حمایت و نصرت ہی کے لئے وہ ظہور میں آتا ہے لیکن پھر اللہ تعالیٰ کے ہاں کسی کی دعا اور سفارش بھی کچھ کام نہیں آتی۔