Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 23. Al-Muminoon · Ayah 28

  1. فَاِذَا اسْتَوَیْتَ اَنْتَ وَ مَنْ مَّعَكَ عَلَى الْفُلْكِ فَقُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ نَجّٰىنَا مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ﴿28﴾

    1. فَاِذَاپھر جب
    2. اسْتَوَيْتَتم بیٹھ جاؤ
    3. اَنْتَتم
    4. وَمَنْاور جو
    5. مَّعَكَتیرے ساتھ (ساتھی)
    6. عَلَيپر
    7. الْفُلْكِکشتی
    8. فَقُلِتو کہنا
    9. الْحَمْدُتمام تعریفیں
    10. لِلّٰهِاللہ کے لیے
    11. الَّذِيْوہ جس نے
    12. نَجّٰىنَاہمیں نجات دی
    13. مِنَسے
    14. الْقَوْمِقوم
    15. الظّٰلِمِيْنَظالم (جمع)
Translation · Tadabbur-e-Quran
پس جب تم اور تمہارے ساتھی کشتی میں سوار ہو لیں تو شکر ادا کیجیو کہ شکر ہے اس اللہ کے لئے جس نے ہمیں ظالم قوم سے نجات دی
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
آیت 29-28 حضرت نوح کی ہجرت اور ہجرت کے مناسب دعا حضرت نوح اور ان کے ساتھیوں کا کشتی پر یہ سوار ہونا اپنی قوم سے اسی طرح کی ہجرت تھی جس طرح کی ہجرت دوسرے رسولوں کو کرنی پڑی اس وجہ سے ان کو ہجرت کے مناسب حال دعا تلقین کی گئی کہ سوار ہو چکنے کے بعد یہ دعا کرنا کہ اس اللہ کے لئے شکر ہے جس نے ظالموں سے ہمیں نجات دی اور ساتھ ہی یہ دعا بھی کرنا کہ اے رب تو ہمیں جہاں اتارے خیر و برکت اور اپنے فضل و رحمت کے ساتھ اتار۔ تو بہترین اتارنے ولا ہے۔ ہجرت کے وقت اسی مضمون کی دعائیں دوسرے انبیاء سے بھی منقول ہیں۔ ہمارے حضور نے بھی ہجرت کے وقت اسی طرح کی دعا فرمائی تھی۔ رب ادخلنی مدخلل صدق داخرجنی مخرج صدق و اجعلی من لدنک سلطنا نصیرا یہ دعا چونکہ اللہ تعالیٰ کی سکھائی ہوئی ہے اس وجہ سے دعا کے پیرایہ میں یہ مستقبل کی فوز و فلاح کی بشارت بھی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اب تمہارے رب نے تمہیں ناپکوں اور ناہنجاروں کے ماحول سے نجات دی۔ اب وہ تمہیں بہترین میزبان کی طرح اتارے گا اور جہاں اتارے گا اس سر زمین کو تمہارے لئے مبارک بنائے گا، تم پھولو پھلو گے اور انہی چند افراد اور تھوڑے سے وسائل معاش سے یہ دنیا پھر آباد و معمور ہوگی۔