Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 23. Al-Muminoon · Ayah 35

  1. اَیَعِدُكُمْ اَنَّكُمْ اِذَا مِتُّمْ وَ كُنْتُمْ تُرَابًا وَّ عِظَامًا اَنَّكُمْ مُّخْرَجُوْنَ۪ۙ﴿35﴾

    1. اَيَعِدُكُمْکیا وہ وعدہ دیتا ہے تمہیں
    2. اَنَّكُمْکہ تم
    3. اِذَاجب
    4. مِتُّمْمرگئے
    5. وَكُنْتُمْاور تم ہوگئے
    6. تُرَابًامٹی
    7. وَّعِظَامًااور ہڈیاں
    8. اَنَّكُمْتو تم
    9. مُّخْرَجُوْنَنکالے جاؤگے
Translation · Tadabbur-e-Quran
کیا وہ تمہیں اس بات کا ڈراوا دیتا ہے کہ جب تم مر جائو گے اور خاک اور ہڈیاں بن جائو گے تو تم پھر نکالے جائو گے !
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
آیت 36-35 ھیھات کا موقع استعمال اور مفہوم وعد یعد یہاں ڈرانے کے معنی میں ہے جس طرح الشیطن یعدکم الفقر میں ہے۔ یعنی شیطان تمہیں غریبی سے ڈراتا ہے۔ ھیھات اسم فعل ہے۔ یہ عربی میں مختلف شکلوں میں استعمال ہوتا ہے اور اس موقع پر بولا جاتا ہے جب کسی چیز کو نہایت مستبعد اور بعید از امکان ظاہر کرنا ہو۔ تکرار کی صورت میں اس کے اندر تاکید اور شدت کا مفہوم پیدا ہوجاتا ہے۔ استقہام یہاں استنکار کے مفہوم میں ہے۔ یعنی وہ بہت تعجب اور حیرت سے کہتے ہیں کہ کیا یہ شخص تمہیں اس بات سے ڈراتا ہے کہ جب تم مر کر اور سڑ گل کر مٹی اور ہڈی بن جائو گے تواز سر نو زندہ کر کے قربوں سے نکالے جائو گے ! یہ ڈراوا جو تمہیں سنایا جا رہا ہے یہ نہایت ہی مستبعد اور نہایت ہی بعید از امکان ہے ! مطلب یہ ہے کہ اس شخص کی اس طرح کی خیالی باتوں سے مرعوب ہو کر کہیں اس کے جال میں نہ پھنس جانا۔