تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 23. Al-Muminoon · Ayah 69
اَمْ لَمْ یَعْرِفُوْا رَسُوْلَهُمْ فَهُمْ لَهٗ مُنْكِرُوْنَ٘﴿69﴾
- اَمْیا
- لَمْ يَعْرِفُوْاانہوں نے نہیں پہچانا
- رَسُوْلَهُمْاپنے رسول
- فَهُمْتو وہ
- لَهٗاس کے
- مُنْكِرُوْنَمنکر ہیں
Translation · Tadabbur-e-Quran
یا انہوں نے اپنے رسول کو پچانا نہیں اس وجہ سے اس کے منکر بنے ہوئے ہیں !
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
قریش کو ایک سخت خطرے سے آگاہی
یہ اس سنت الٰہی کی روشنی میں، جو قرآن میں نہایت وضاحت سے بیان ہوچکی ہے، قریش کو ایک سمت خطرے سے آگاہی ہے۔ وہ سنت الٰہی یہ کہ اللہ تعالیٰ ہر قوم پر اتمام حجت کے لئے ایک رسول بھیجتا ہے جو اسی قوم کے اندر سے ہوتا ہے۔ اگر قوم اس پر ایمان لاتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس قوم کو برومند کرتا اور زمین میں اس کو اقتدار بخشات ہے اور اگر وہ رسول کی تکذیب کردیتی ہے تو اتمام حجت کے بعد وہ لازماً فنا کردی جاتی ہے۔ اس وجہ سے کسی قوم کے اندر رسول کی بعثت کا مرحلہ ایک بڑا ہی نازک مرحلہ ہوتا ہے۔ اسی مرحلہ میں اس کی زندگی یا موت کا فیصلہ ہوتا ہے۔ بدقسمت ہے وہ قوم جو اس مرحلہ کی نزاکت کو نہ سمجھے اور اپنے رسول کے معاملہ میں لا ابالی پن کا مظاہرہ کرے۔ قریش کی اسی ناعاقبت اندیشی پر یہ ان کو تنبیہ ہے کہ کیا انہوں نے اپنے رسول کو پچانا نہیں اس وجہ سے اس کا انکار کئے جا رہے ہیں یا سب کچھ جان بوجھ کر ہو رہا ہے۔ دیدہ دانستہ ہو رہا ہے تو اس کھیل کا انجام معلوم ہے !