تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 23. Al-Muminoon · Ayah 70
اَمْ یَقُوْلُوْنَ بِهٖ جِنَّةٌ١ؕ بَلْ جَآءَهُمْ بِالْحَقِّ وَ اَكْثَرُهُمْ لِلْحَقِّ كٰرِهُوْنَ﴿70﴾
- اَمْیا
- يَقُوْلُوْنَوہ کہتے ہیں
- بِهٖاس کو
- جِنَّةٌدیوانگی
- بَلْبلکہ
- جَآءَهُمْوہ آیا ان کے پاس
- بِالْحَقِّساتح حق بات
- وَاَكْثَرُهُمْاور ان میں سے اکثر
- لِلْحَقِّحق سے
- كٰرِهُوْنَنفر رکھنے والے
Translation · Tadabbur-e-Quran
یا وہ کہتے ہیں کہ اس شخص پر کچھ جنون کا اثر ہے ! یہ جنون نہیں ہے بلکہ وہ ان کے پاس حق لے کر آیا ہے لیکن ان میں سے اکثر حق سے بیزار ہیں
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
رسول کو خبطی قرار دینے کی وجہ دراصل حق بیزاری ہے
یعنی اگر وہ اپنے عوام کو بیوقوف بنانے کے لئے یہ کہتے ہیں کہ رسول کو خبط اور سودا لاحق ہے تو یہ خود ان کے اپنے پاگل ہونے کی دلیل ہے۔ رسول کو کوئی خبط و سودا نہیں ہے۔ وہ تو جو کچھ پیش کر رہا ہے وہ بالک لحق ہے اور اس کی ایک ایک بات پوری ہو کے رہے گی۔ البتہ یہ خود حق سے بیزار ہیں۔ اس وجہ سے رسول کو دیوانہ قرار دے رہے ہیں۔ مریضک و جب طبیب کی تشخیص کردہ دوائیں کڑوی معلوم ہوتی ہیں اور وہ ان کو حلق سے اتارنے پر تیار نہیں ہوتا تو وہ اپنے کو مریض تسلیم کرنے کے بجائے الٹے طبیب ہی کے مشورے کو ہذیان قرار دیتا ہے۔ یہی حال ان لوگوں کا تھا۔ یہ اپنے باطل کو چھوڑ کر حق کے کڑوے کسیلے گھونٹ حلق سے اتارنے کے لئے تیار نہیں تھے اس وجہ سے رسول کو دیوانہ قرار دیتے تھے کہ اس طرح اپنی خرد باختگی پر کچھ پر دہ ڈال سکیں۔