تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 23. Al-Muminoon · Ayah 76
وَ لَقَدْ اَخَذْنٰهُمْ بِالْعَذَابِ فَمَا اسْتَكَانُوْا لِرَبِّهِمْ وَ مَا یَتَضَرَّعُوْنَ﴿76﴾
- وَاور
- لَقَدْ اَخَذْنٰهُمْالبتہ ہم نے انہیں پکڑا
- بِالْعَذَابِعذاب
- فَمَا اسْتَكَانُوْاپھر انہوں نے عاجزی نہ کی
- لِرَبِّهِمْاپنے رب کے سامنے
- وَمَا يَتَضَرَّعُوْنَاور وہ نہ گڑگڑائے
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور ہم نے ان جیسوں کو عذاب میں پکڑا لیکن نہ وہ اپنے رب کے آگے جھکے اور نہ وہ تضرح ہی کرتے تھے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
تنبیہی عذاب
ولقد اخذ نھم یعنی ولقد اخذنا اشیامھم ہم نے ان کے ہم مشربوں کو اس سے پہلے اپنے تنبیہی عذابوں میں پکڑا لیکن نہ تو ان کے دلوں میں خستگی اور فروتنی پیدا ہوئی اور نہ وہ اپنے رب کے آگے گریہ وزاری کرتے تھے۔ یہ پچھلی تاریخ کی روشنی میں اسی بات کی دلیل بیان ہوئی ہے جو اوپر والی آیت میں مذکور ہوئی ہے کہ تاریخ شاہد ہے کہ اس قماش کے لوگ تنبیہات سے کوئی سبق نہیں لیتے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر ان کو بھی کوئی تنبیہ کی گئی تو پیغمبر کو یہ توقع نہیں رکھنی چاہئے کہ یہ اس سے کوئی سبق لیں گے۔ ھم سے مراد یہاں قریش نہیں بلکہ ان کے وہ ہم مشرب ہیں جو پچھلی امتوں میں گزر چکے تھے۔ عربی میں غایت مجانست و مشابہت کے اظہار کے مواقع میں اس طرح ضمیریں آتی ہیں۔ اس کی مثالیں قرآن اور کلام عرب میں موجود ہیں۔ اس میں یہ بلاغت ہے کہ ان کو پکڑا تو گویا انہی کو پکاڑ اس لئے کہ مرتکب دونوں ایک ہی جرم کے ہیں۔
استکانۃ اور تضرع میں ظاہر و باطن کا فرق ہے۔ استکانۃ دل کی شکستگی و خستگی کی تعبیر
ہے اور تضوع سے مراد وہ گریہ وزاری اور دعا فریاد ہے جو استکانۃ کے طور پر ظاہر ہوتی ہے۔ میرے نزدیک یہاں مضارع سے پہلے فعل ناقص محذوف ہے۔